ڈونلڈ ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیان کے خلاف ایوانِ نمائندگان میں قرارداد منظور

17 جولائ 2019

ای میل

ری پبلکن جماعت کے 4 اراکین نے بھی مذمتی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا — فوٹو: اے پی
ری پبلکن جماعت کے 4 اراکین نے بھی مذمتی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا — فوٹو: اے پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیموکریٹک جماعت کی 4 اقلیتی خواتین ارکان پر غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی اور پناہ گزینوں سے متعلق بیان کے خلاف ایوان نمائندگان میں مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق قراردادا کے حق میں ایوان کے 435 ارکان میں سے 240 نے ووٹ دیا جبکہ 187 نے مخالفت کی۔

علاوہ ازیں ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن کے 4 اراکین نے بھی مذمتی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا، ایک آزاد قانون ساز نے بھی ٹرمپ کے خلاف مذمتی قرار داد کی حمایت کی۔

قرار داد میں امریکی صدر کی جانب سے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو حملہ آور کہنے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ 435 ارکان پر مشتمل ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس ارکان کی تعداد زیادہ ہے جبکہ سینیٹ میں ری پبلکنز کی تعداد زیادہ ہے لہذا وہاں سے قرار داد کی منظوری کا امکان کم ہے۔

مزید پڑھیں: ‘میرے جسم میں نسل پرست ہڈی نہیں ہے‘

ٹرمپ نے کانگریس کی جن 4 خواتین پر تنقید کی تھی وہ ہسپانوی، عرب،صومالیہ اور افریقی-امریکی نژاد ہیں۔

ڈیموکریٹک جماعت کے رہنماؤں نے ٹرمپ کے بیانات کی مذمت کی الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز، راشدہ طلیب، الحان عمر اور آیانا پریسلے کی حمایت کی۔

مذمتی قرار داد پر رائے شماری سے قبل ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا کہ ’ اس ادارے کا ہر رکن ڈیموکریٹک اور ری پبلکن صدر کے نسل پرستانہ ٹوئٹس کی مذمت کرنے میں ہمارا ساتھ دے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ اس سے کچھ کم کرنا ہماری اقدار کی مسترد کرنا اور امریکی عوام کی حفاظت سے متعلق ہمارے عہدے کے حلف سے شرمناک دستبرداری ہوگی ‘۔

امریکی سول رائٹس کے نمائندے جون لوئس نے ایوان نمائندگان میں ایک بیان میں کہا کہ ’ میں نسل پرستی کو جانتا ہوں جب میں اسے دیکھتا ہوں، جب میں اسے محسوس کرتا ہوں اور حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر نسل پرستی کے لیے کوئی جنگ نہیں ہے‘۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ نام نہاد رائے شماری‘ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’ ڈیموکریٹ کا کھیل‘ قرار دیا اور ری پبلکنز سے اصرار کیا کہ کمزور نہ پڑیں اور ان کے جال میں نہ پھنسیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا خواتین ارکان کانگریس سے متعلق ایک اور نسل پرستانہ بیان

امریکی صدر نے کہا کہ ’ وہ ٹوئٹس نسل پرستانہ نہیں تھے، میرے جسم میں نسل پرست ہڈی نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ یہ ڈیموکریٹ جماعت سے تعلق رکھنے والی کانگریس کی رکن خواتین کی جانب سے غلط زبان، بیانات اور جھوٹ کے خلاف رائے شماری ہونی چاہیے جن سے متعلق میں ان کے اقدامات کی بنا پر سچ مانتا ہوں کہ وہ ہمارے ملک سے نفرت کرتی ہیں‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ نینسی پیلوسی نے ان خواتین سے فاصلہ رکھنے کی کوشش کی لیکن اب وہ ہمیشہ کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کے ساتھ جُڑ گئی ہیں‘۔

الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز نے ٹرمپ کے ٹوئٹ میں جواب میں کہا کہ ’ آپ صحیح ہیں، آپ کے جسم میں نسل پرست ہڈی نہیں بلکہ آپ کے سر میں نسل پرست دماغ اور سینے میں نسل پرست دل ہے‘۔

انہوں نے قرار داد کے خلاف ووٹ کرنے والے ری پبلکن اراکین سے متعلق سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’ وہ خود میں بنیادی انسانی تہذیب بھی نہیں لاسکتے کہ صدر کے بیان کے خلاف ووٹ دیں‘۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 جولائی کو کانگریس کی رکن خواتین پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ یہ خواتین دراصل ان ممالک سے تعلق رکھتی ہیں جہاں کی حکومتیں مکمل طور پر نااہل اور تباہی کا شکار ہیں اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ کرپٹ ہیں‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید لکھا تھا کہ ’ یہ خواتین بہت چالاکی سے امریکا کے عوام جو کرہ ارض پر سب سے عظیم اور طاقتور قوم ہیں انہیں بتارہی ہیں کہ ہماری حکومت کو کیسے چلانا ہے‘۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’ یہ خواتین جہاں سے آئی ہیں وہاں واپس کیوں نہیں چلی جاتیں اور ان مکمل طور پر تباہ حال اور جرائم سے متاثرہ علاقوں کو ٹھیک کرنے میں مدد کریں اور پھر واپس آکر ہمیں بتائیں کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے‘۔

ٹرمپ نے یہ بیان سفید فام نسل سے تعلق نہ رکھنے والے خواتین پر تنقید کرتے ہوئے دیا تھا جن میں نیویارک کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز،الحان عمر، مشی گن کی راشدہ طلیب اور آیانا پریسلی شامل ہیں۔

امریکی صدر کے بیان کو ڈیموکریٹک صدارتی امیدواروں اور سینئر قانون سازوں کی جانب سے نسل پرست اور غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی قرار دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: خواتین ارکان کانگریس سے متعلق بیان پر ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا

کانگریس کی ان چاروں خواتین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امریکی صدر کے بیان رد عمل دیا۔

بعدازاں 15 جولائی کو ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ ' مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ کئی لوگ مجھ سے اتفاق کرتے ہیں اور بہت سے لوگ اسے پسند بھی کرتے ہیں'۔

امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں ایک مرتبہ پھر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ' اگر وہ ہمارے ملک سے نفرت کرتے ہیں تو وہ جرائم سے متاثرہ ممالک میں واپس جاسکتےہیں'۔

انہوں نے کہا تھا کہ ' اگر آپ امریکا میں خوش نہیں ہیں، آپ ہر وقت شکایتیں کررہے ہیں، آپ جاسکتے ہیں، آپ ابھی اسی وقت جاسکتے ہیں'۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ' ڈیموکریٹس خود کو ان 4 خواتین سے دور رکھنے کی کوشش کررہے تھے لیکن اب وہ انہیں قبول کرنے پر مجبور ہیں'۔

جس کے بعد اسپییکر نینسی پیلوسی نے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ کے نسل پرستی پر مبنی بیانات پر مذمتی قرارداد پر ائےشماری کی جائے گی۔