لکھاری، دہلی میں ڈان کے نمائندے ہیں۔
لکھاری، دہلی میں ڈان کے نمائندے ہیں۔

زیادہ تر غیرجانبدار مبصرین اس امکان کا اظہار کررہے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی تیسری مدت کے لیے برسراقتدار آنے والے ہیں اور یہ امکان بھی ابھی مکمل طور پر خارج نہیں ہوا ہے کہ نریندر مودی یہ انتخابات ہار رہے ہیں جو گزشتہ روز اپنے 7 مراحل میں سے چوتھے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ لیکن اب تک کی تمام صورتحال کو مدنظر رکھیں تو وہ اب بھی شکست سے دوچار ہوسکتے ہیں۔عمیق تجزیہ کاروں نے حساب لگا کر مودی کی شکست کی پیش گوئی کی ہے۔

دوسری جانب مودی کی حمایت کرنے والے ٹی وی چینلز اور اینکرز یہ شور مچاتے نظر آتے ہیں کہ نریندر مودی 400 سے زائد نشستیں جیت رہے ہیں۔ یہ دو تہائی اکثریت ہے جس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس سے آئین میں تبدیلی بھی لائی جاسکتی ہے۔ ماہرِ انتخابات پراشانت کشور نے مودی کی جیت کے دعوے کو مزید تقویت دیتے ہوئے گمان ظاہر کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مغربی بنگال اور اوڈیشا میں واحد سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھر سکتی ہے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بی جے پی پہلی بار تامل ناڈو کی بھی نمایاں جماعت بن سکتی ہے یا کم از کم تامل ناڈو میں اس کا ووٹ بینک 2 ہندسوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ نریندر مودی کے لیے خوشخبری ہے لیکن انتخابات کے حوالے سے پیش گوئی کرنے کے معاملے میں پراشانت کشور کی ساکھ مبہم ہے۔

ہم اس دعوے کے دونوں پہلوؤں پر گفتگو کرسکتے ہیں اور اپنے نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نریندر مودی اپنی شکست قبول کریں گے یا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح پُرتشدد ہتھکنڈے اپنائیں گے؟ چونکہ انتخابات میں بہت سے عناصر شامل ہوتے ہیں اس لیے یہ کہنا انتہائی مشکل ہے کہ نتیجہ کس کے حق میں آئے گا جبکہ انتخابی قانون کے مطابق جب تک آخری ووٹ کاسٹ نہیں ہوجاتا تب تک ووٹرز کی رائے کے مطابق کسی بھی مواد کو شائع کرنے پر سرکاری پابندی عائد ہے۔ انتخابات کا آخری روز یکم جون ہے مگر اس کے باوجود عوام کی آرا پر مشتمل یہ رپورٹس یقینی طور پر درست بھی نہیں ہوتیں۔ لہٰذا ہمیں حتمی نتائج کے لیے 4 جون کا انتظار کرنا ہوگا۔

معروف سابق ماہرِ انتخابات یوگیندر یادو سے انتخابات کے حوالے سے سنتے ہیں جو حال ہی میں راہول گاندھی کے کراس کنٹری جمہوری اتحاد مارچ کا حصہ بنے۔ اہم مقابلوں والی ریاستوں کو دورہ کرکے اور کم ووٹر ٹرن آؤٹ کو دیکھتے ہوئے پیر کو ایک ٹی وی چینل پر تجزیہ دیتے ہوئے انہوں نےمودی کی شکست کا امکان ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا، ’الیکشن کروٹ لے رہا ہے‘۔ یہ وہ جملہ ہے جو عمومی طور پر ان یوٹیوب چینلز پر سننے کو ملے گا جو ان ریاستوں سے رپورٹ کررہے ہیں جو انتخابی مرحلے میں داخل ہورہی ہیں۔ یہ ان عام ٹی وی چینلز سے بہت مختلف ہیں جوکہ پہلے ہی نریندر مودی کو فاتح قرار دے چکے ہیں۔

2019ء میں جن ریاستوں میں بی جے پی کی کارکردگی اچھی رہی تھی، یوگیندر یادو کے اندازے کے مطابق ان ریاستوں میں نریندر مودی کی حمایت میں شاید کچھ حد تک کمی واقع ہو کیونکہ یہ امکان تو ہرگز نہیں کہ پہلے کی طرح وہ گجرات، راجستھان، ہریانہ اور دہلی میں 100 فیصد نشستیں جیتیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مہاراشٹر اور بہار سے مودی کے ووٹ بینک میں بڑی کمی واقع ہوگی۔ مہاراشٹر وہی ریاست ہے کہ جہاں نریندر مودی نے اپنے سابق اتحادی شیو سینا کو الگ کرکے بی جے پی کی ریاستی حکومت قائم کی تھی۔ اب شیو سینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے اور شرد پوار دونوں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا حصہ بن چکے ہیں اور اب وہ ’غداروں‘ کو شکست دینے کے لیے زیادہ پُرجوش انداز میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

ٹھاکرے کی شیو سینا کے ساتھ اتحاد میں بی جے پی نے 2019ء کے انتخابات میں مہاراشٹر کی 48 میں سے 41 نشستیں جیتی تھیں۔ اب شیو سینا کے بغیر یوگیندر یادو کہتے ہیں کہ بی جے پی مہاراشٹر سے کم از کم 20 نشستوں سے محروم رہے گی۔ بہار وہی ریاست ہے جہاں وزیراعلیٰ نتیش کمار کو لالو یادو کی جماعت کے ساتھ اتحاد توڑ کر تیسری یا چوتھی مرتبہ بی جے پی کے پاس واپس چلے جائیں گے۔ نتیش کمار کو ’دال بدلو‘ کہا جاتا ہے جس کا مطلب تواتر سے سیاسی وابستگی بدلنے والا شخص ہے۔ 2019ء کے انتخابات میں بی جے پی اور نتیش کمار نے 40 میں سے 39 نشستیں جیتی تھیں۔ اب یوگیندر یادو کہتے ہیں کہ وہ بہار سے 15 نشستیں ہار سکتے ہیں۔

یوگیندر یادو کے مطابق کرناٹک جہاں آج کانگریس کی حکومت ہے، وہاں سے بی جے پی کو 10 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے جہاں 2019ء میں بی جے پی نے 28 میں سے 26 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاستوں میں بی جے پی کی 10 نشستیں کم ہوسکتی ہیں جوکہ پراشانٹ کشور کی پیش گوئی کے بالکل برعکس ہے۔ اتر پردیش اور اتراکھنڈ جہاں بی جے پی کی مجموعی طور پر 69 نشستیں ہیں، ان میں سے وہ 15 کھو سکتی ہے۔

تامل ناڈو، کیرالہ اور تلنگانہ کی ریاستوں سے بی جے پی 5 نشستیں جیت بھی سکتی ہے جبکہ آندھرا میں مقامی جماعت کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے وہ 10 نشستوں پر کامیاب ہوسکتی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مودی اور ان کے اتحادی اندازوں کے مطابق 268 نشستیں جیت سکتی ہے یعنی حکومت بنانے کے لیے درکار 272 نشستوں میں سے 4 کم۔

آئیے مودی کی جیت اور شکست دونوں ممکنہ منظرناموں کو مدنظر رکھتے ہیں۔ نیلانجن مکوپادھیائے جو 2013ء میں شائع ہونے والی نریندر مودی کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی سوانح عمری کے مصنف ہیں، یوگیندر یادو کے اندازوں کو کسی حد تک درست ثابت کرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک مضمون میں انہوں نے بتایا کہ کون سے عناصر مودی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ’کم ہوتا ووٹر ٹرن آؤٹ، سانگھ پریوار (آر ایس ایس) کی مودی کی سرپرستی نہ کرنا، خود مودی کی اپنی کمزور انتخابی مہم اور تفرقہ انگیز اور فرقہ وارانہ پولرائزنگ اقدامات کا سہارا لینے کی ضرورت، سب اشارہ کرتے ہیں کہ 2024ء کے حوالے سے نریندر مودی کا اسکرپٹ خراب ہوچکا ہے‘۔ یوگیندر یادو کے برخلاف اگر مودی اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو وہ تیسری مدت کے لیے اقتدار سنبھالیں گے لیکن اگر وہ ہار گئے تو کیا ہوگا؟

نریندر مودی کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی تنقیدی کتاب کے مصنف اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے شوہر پرکالا پربھاکر کے مطابق بی جے پی انتخابات میں چوری کی کوشش کرسکتی ہے۔ اسے اس بات کا خوف ہوگا کہ اگر وہ ہار جاتے ہیں تو بہت سے حقائق پر سے پردہ اٹھ جائے گا۔ اس کے علاوہ 2025ء وہ سال ہے کہ جب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے قیام کو 100 سال ہوجائیں گے۔ وہ یہ نہیں چاہیں گے یہ جشن منانے کے لیے ان کے پاس اقتدار نہ ہو۔ اس کے باوجود تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ آر ایس ایس ہی ہے جو کوشش میں ہے کہ اقتدار پوری طرح سے نریندر مودی کو نہ دیا جائے۔

پرکالا پربھاکر نے خبردار کیا کہ دھاندلی ہوسکتی ہے۔ ’حکومت نے الیکشن کمشنرز کے انتخاب اور تعیناتی پر سپریم کورٹ کے کردار کو ختم کردیا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے تعینات کردہ الیکشن کمیشنرز حکومت کی جانب سے بڈنگ کریں گے جس سے شکوک پیدا ہوں گے‘۔

نریندر مودی اپنے مضبوط حریف کو پسپا کرنے کے لیے ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے۔ انہوں نے دو وزرائے اعلیٰ کو جیل میں بھیجا۔ لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو عبوری ضمانت دینے نے مودی حکومت کو اپوزیشن کو مزید کمزور کرنے کی اپنی کوششوں سے روک دیا ہے۔

’اس بات کا ہر ممکن امکان موجود ہے کہ موجودہ حکومت انتخابات چرانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ گزشتہ عام انتخابات کے برعکس، یہ انتخابات یکم جون کو پولنگ ختم ہونے اور 4 جون کو نتائج کے اعلان پر ختم نہیں ہوں گے‘۔


یہ تحریر انگریزی میں پڑھیے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں