راتوں رات مقبول ہونے والی فیس ایپ صارفین کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ؟

18 جولائ 2019

ای میل

یہ ایپ 2017 میں بھی مقبول ہوئی تھی — فوٹو بشکریہ فیس ایپ
یہ ایپ 2017 میں بھی مقبول ہوئی تھی — فوٹو بشکریہ فیس ایپ

اگر آپ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو آپ نے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹرسمیت ہر سوشل میڈیا نیٹ ورک پر ایک نئے ٹرینڈ کو ضرور محسوس کیا ہوگا جس میں لوگ اپنی ایسی تصاویر شیئر کررہے ہیں، جس میں وہ اپنی عمر سے زیادہ بڑے یا یوں کہہ لیں بوڑھے نظر آرہے ہیں۔

ایج چیلنج کے نام سے ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر گزشتہ 2 یا تین روز سے ٹرینڈ کررہا ہے اور اس کی وجہ آئی اے ٹیکنالوجی سے لیس اپلیکشن فیس ایپ کا ایک بار پھر وائرل ہوجانا ہے جو راتوں رات بہت زیادہ مقبول ہوگئی ہے۔

یہ ایپ 2 سال قبل بھی وائرل ہوئی تھی جس کی وجہ اس میں ایک ہاٹ فلٹر کے ذریعے جلد کی رنگت بدل دینا تھا اور اس بار ایج فلٹر نے اس اپلیکشن کو وائرل کیا ہے اور ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب یہ اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بھی دستیاب ہے، جو پہلے آئی فون صارفین ہی استعمال کرسکتے تھے۔

روس سے تعلق رکھنے والے ڈویلپرز نے اس ایپ کو تیار کیا اور عام لوگوں کے ساتھ ساتھ معروف شخصیات بھی اپنے ممکنہ بڑھاپے یا نوجوانی کی تصاویر اس میں شیئر کررہے ہیں۔

فہد مصطفیٰ نے بھی تصویر شیئر کی
فہد مصطفیٰ نے بھی تصویر شیئر کی

مگر ماہرین نے اس ایپ کو صارفین کی آن لائن پرائیویسی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں ٹیکنالوجی رجحان پر لکھنے والے جیفری اے فولر نے اس ایپ کا تجزیہ کرنے کے بعد لکھا 'میرے آئی فون ٹیسٹ میں فیس ایپ کا تجزیہ کیا تو میں نے دریافت کیا کہ یہ اپلیکشن میرے فون کی تفصیلات فیس بک اور گوگل ایڈ موب سے شیئر کررہی ہیں، جس سے ممکنہ طور پر اشتہارات دکھانے میں مدد مل سکتی ہے اور کمپنیاں یہ بھی دیکھ سکتی ہیں کہ یہ اشتہارات کتنے موثر رہے'۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فیس ایپ بہت بڑی مقدار میں ڈیٹا اپنے سرورز پر منتقل کررہی ہے تاہم ابھی ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ایپ کسی صارف کے فون کی تمام فوٹو گیلری کو ڈاﺅن لوڈ کررہی ہو، بس جو تصویر صارف فلٹر کے لیے منتخب کرتا ہے وہی سرورز میں جاتی ہے، تاہم کمپنی کے پاس تمام تصاویر تک رسائی موجود ہے۔

درحقیقت جب تصویر اپ لوڈ کی جاتی ہے وہ پراسیس ہونے کے لیے کمپنی کے کلاﺅڈ سرور میں منتقل ہوتی ہے اور ڈیوائس میں پراسیسنگ نہیں ہوتی، اور کمپنی کی جانب سے صارف کو آگاہ نہیں کیا جاتا ہے کہ اس کی تصویر کو کلاﺅڈ میں پراسیس کیا گیا ہے۔

وسیم اکرم بھی اسے آزمائے بغیر نہیں رہ سکے
وسیم اکرم بھی اسے آزمائے بغیر نہیں رہ سکے

ویسے فیس ایپ چاہے تو کسی ڈیوائس کی تمام تصاویر کو پراسیس کرسکتی ہے تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتی۔

پرائیویسی کے حوالے سے ایک اور بات کمپنی کی پرائیویسی پالیسی ہے جس کے لیے ایسی زبان استعمال کی گئی ہے جو صارفین کی سمجھ سے باہر ہے تاہم صارفین عام طور پر اس قسم کی پالیسی پڑھنا پسند نہیں کرتے بلکہ انہوں نے اگر سروس استعمال کرنی ہے تو بس کرنی ہے۔

مگر موجودہ عہد میں تصاویر تک رسائی زیادہ بڑا سیکیورٹی خطرہ ہے کیونکہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کو اس طرح کے وائرل چیلنج سے زیادہ بڑی مقدار میں ڈیٹا مل جاتا ہے جس سے وہ تصاویر میں موجود لوگوں سے زیادہ ڈیٹا اکھٹا کرلیتی ہے۔

فیصل قریشی نے یہ تصویر شیئر کی
فیصل قریشی نے یہ تصویر شیئر کی

دوسری جانب فیس ایپ کی جانب سے ٹیکنالوجی سائٹ ٹیک کرنچ کو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر تصاویر کو کمپنی اپنے سرورز سے اپ لوڈ کے بعد 2 دن کے اندر ڈیلیٹ کردیتی ہے۔

کمپنی کے مطابق 'بیشتر تصاویر کو سرورز سے 48 گھنٹے کے اندر ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے، ہم صارفین کی جانب سے سرورز سے تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کی درخواستوں کو بھی قبول کرتے ہیں، ہماری سپورٹ ٹیم کو اس وقت بہت زیادہ اوورلوڈ کا سامنا ہے، مگر ایسی درخواستیں ہماری ترجیح ہیں'۔

بیان میں مزید بتایا کہ وہ زیادہ تر فوٹو پراسیسنگ کلاﺅڈ میں کرتی ہے مگر فونز میں موجود ایسی تصاویر کو سرورز میں منتقل نہیں کرتی جن کو ایڈیٹنگ کے لیے منتخب نہ کیا گیا ہو۔

احمد علی بٹ
احمد علی بٹ

ایپ کے مطابق تصاویر کو کلاﺅڈ پر اپ لوڈ کرنے کا بہتر کارکردگی اور ٹریفک ہے اور فیس ایپ کے تمام فیچر بغیر لاگ ان ہوئے بھی دستیاب ہوتے ہیں، جبکہ کمپنی صارفین کا ڈیٹا فروخت یا شیئر نہیں کرتی۔

بیان کے مطابق 'اگرچہ کمپنی کی ٹیم کا بڑا حصہ روس میں ہے، مگر صارفین کا ڈیٹا روس منتقل نہیں کیا جاتا'۔