سول، عسکری حکام پاک-امریکا تعلقات کی ضرورت پر زور دیں گے

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2019

ای میل

وزیر خارجہ آج واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کریں گے جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر آئندہ روز بریفنگ دیں گے۔ — فوٹو: آئی ایس پی آر/پی آئی ڈی
وزیر خارجہ آج واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کریں گے جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر آئندہ روز بریفنگ دیں گے۔ — فوٹو: آئی ایس پی آر/پی آئی ڈی

واشنگٹن: سول اور عسکری قیادت کے 2 اہم رہنما وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور اپنی بریفنگ میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کے لیے دونوں ممالک کے کردار کو نمایاں کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی آج میڈیا سے گفتگو کریں گے جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈی جی آئندہ روز علیحدہ بریفنگ دیں گے۔

سفارتخانے نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اپنی بریفنگ کے دوران کن امور کو نمایاں کریں گے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی معاشی، سیاسی اور سفارتی امور کو نمایاں کریں گے اور جنرل آصف غفور سیکیورٹی اور دفاعی امور کو نمایاں کریں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان سے فوجی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، امریکی جنرل

واضح رہے کہ امریکا کے مستقبل کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے نامزدگی اجلاس میں پاک-امریکا باہمی مفاد میں پاکستان سے فوجی تعلقات پر زور دیا تھا۔

جنرل مارک ملی، جو امریکی آرمی کی سربراہی کر رہے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان سے سیکیورٹی معاونت معطل کردی ہے اور دفاعی مذاکرات روک دیے ہیں مگر ہمیں اپنے باہمی مفاد میں فوجی تعلقات برقرار رکھنے ہوں گے۔

17 جولائی کو واشنگٹن میں ہونے والی بحث میں جنوبی ایشیائی امور کے سینیئر تجزیہ کار مارون وین بام کا کہنا تھا کہ امریکا کی دفاعی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی فوجی معاونت معطل کرنے کی مخالفت کی تھی اور وہ تعلقات کی بحالی چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پینٹاگون پاکستانی فوجی حکام کی تربیبت اور تعلیمی کیمپ دوبارہ قائم کرنے کا خواہاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات کل دوبارہ شروع ہوں گے

اس ہی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جماعت الدعوۃ کے صدر حافظ محمد سعید کو 2008 کے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے ان کی پاکستان میں گرفتاری کو خوش آئند قرار دیا تھا۔

حافظ سعید جن کے سر کی انعامی رقم ایک کروڑ ڈالر ہے انہیں دہشت گردی کےلیے مالی معاونت کے کیس میں گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

امریکی صدر کا ٹویٹ ان کی وزیر اعظم عمران خان سے وائٹ ہاؤس میں 22 جولائی کو طے شدہ اس ملاقات سے چند روز قبل ہی سامنے آیا تھا جس کے لیے دونوں جانب سے مثبت ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں امریکا نے علیحدگی پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کیا تھا جبکہ امریکی میڈیا نے نشاندہی کی کہ پاکستان نے اس کے بدلے میں حافظ سعید کو گرفتار کیا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے دورہ امریکا سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، ترجمان دفتر خارجہ

واشنگٹن پوسٹ نے حافظ سعید کی گرفتاری کو وزیر اعظم عمران خان کے امریکا کے دورے سے قبل اہم قدم قرار دیا، ساتھ ہی حافظ سعید کی گرفتاری پر رائے دیتے ہوئے واشنگٹن میں سفارتی مبصرین کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ سے بچنے میں بھی مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے پاکستان کو اکتوبر تک اس بات کی یقین دہانی کروانی ہوگی کہ اس کی سرزمین پر دہشت گرد تنظیمیں کام نہیں کررہی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روک دیا گیا ہے۔

واشنگٹن کے سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران امریکا سے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے تعاون طلب کرسکتے ہیں اور شاید اس ہی لیے اسلام آباد نے حافظ سعید اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرنے والے دیگر درجنوں مشتبہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حافظ سعید گوجرانوالہ سے گرفتار، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

واشنگٹن میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسلام آباد صرف دہشت گردی، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خاتمے کے لیے اقدامات کے ساتھ ساتھ امریکا کی افغانستان میں 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے بھی تعاون کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات میں افغانستان امریکی ایجنڈے کی ترجیحات میں سے ہوسکتا ہے کیونکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ اسلام آباد، افغانستان میں اقتدار کی پرامن طریقے سے منتقلی میں تعاون کرے جس سے طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں امریکا کی شکست ظاہر نہ ہوسکے۔