مودی نے بھارت کے مفادات کے ساتھ دھوکا کیا، ٹرمپ کے بیان پر راہول گاندھی کا ردِ عمل

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2019

ای میل

کانگریس نے لوک سبھا میں بھارتی وزیراعظم سے ٹرمپ کے بیان  پر وضاحت کا طالبہ کیا ہے— فائل فوٹو/ اے ایف پی
کانگریس نے لوک سبھا میں بھارتی وزیراعظم سے ٹرمپ کے بیان پر وضاحت کا طالبہ کیا ہے— فائل فوٹو/ اے ایف پی

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر کا بیان سچ ہے تو نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور 1972 کے شملہ معاہدے کے ساتھ دھوکا دہی کی۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن پارٹی کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے کشمیر سے متعلق بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ اگر یہ سچ ہے تو وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور 1972 کے شملہ معاہدے کے ساتھ دھوکا دہی کی ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ ’ ایک کمزور وزارت خارجہ کا انکار کافی نہیں، وزیراعظم کو لازمی طور پر قوم کو بتانا چاہیے کہ ان کے اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کیا بات چیت ہوئی۔

مزید پڑھیں: مودی نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے نہیں کہا، بھارت

دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس نے لوک سبھا میں بھارتی وزیراعظم سے ٹرمپ کے بیان پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

راہول گاندھی کی والدہ سونیا گاندھی نے اس بیان کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا اور پارٹی رہنماؤں کو پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اس وقت تک اٹھانے کی ہدایت کی ہے جب تک نریندر مودی کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آجاتا۔

سماج وادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو نے ٹوئٹ کیا کہ ’ کشمیر سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دعووں پر بھارتی وزیراعظم کی جانب سے واضح اور موثر جواب کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ امریکی صدر کا بیان ماضی کے معاہدوں کی خلاف ورزی اور ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی پر سوال ہے، تمام بات چیت کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان عمران خان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔

وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے کہا گیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ ‘دو ہفتے قبل میری وزیر اعظم نریندر مودی سےملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کہ کیا آپ مصالحت کار یا ثالث بننا چاہیں گے تو میں نے پوچھا کہاں، جس پر انہوں نے کہا کہ کشمیر کیونکہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے ہے’۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش

انہوں نے کہا تھا کہ ‘میں یہ جان کر حیران ہوا کہ یہ مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہے میرا خیال ہے کہ وہ اس کو حل کریں گے اور مجھے ثالث بن کر خوشی ہوگی’۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘میں کشمیر کے حوالے سے بہت کچھ سن چکا ہوں یہ ایک خوبصورت جگہ ہے لیکن وہاں روزانہ بمباری ہوتی ہے۔'

مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ 'میں پہلے بھی بطور وزیر خارجہ امریکی صدور سے ملاقاتیں کرچکاہوں، لیکن امریکا میں مسئلہ کشمیر کے حل کی خواہش کا اتنا واضح اظہار آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا'۔

شاہ محمود قریشی نے واضح کیا تھا کہ خطے میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وزارت خارجہ اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کی سطح پر پہلے بھی نشستیں ہوتی رہیں لیکن آج تک کسی امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر کے حل کی خواہش کا اتنا برملا اظہار نہیں سنا جبکہ بہت عرصے سے مسئلہ کشمیر کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا تھا۔

بھارت نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کردیا

بعدازاں بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے درخواست نہیں کی۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ٹویٹر میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ ‘ہم نے پریس میں صدر ٹرمپ کا بیان دیکھا ہے کہ اگرمسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان درخواست کرتے ہیں تو وہ ثالثی کے لیے تیار ہیں، اس طرح کی کوئی درخواست نریندر مودی نے امریکی صدر سے نہیں کی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ بھارت کا مستقل موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت صرف دو طرفہ ہوگی’۔