'آئین میں عقیدہ ختم نبوت میں ترمیم یا خاتمے کا تصور نہیں'

24 جولائ 2019

ای میل

وزیر اعظم عمران خان نے رواں سال اپریل میں اعجاز شاہ کو وزیر داخلہ مقرر کیا تھا— فائل فوٹو: رائٹرز
وزیر اعظم عمران خان نے رواں سال اپریل میں اعجاز شاہ کو وزیر داخلہ مقرر کیا تھا— فائل فوٹو: رائٹرز

وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ آئین میں عقیدہ ختم نبوت اور اسلامی دفعات میں ترمیم یا خاتمے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان علما کونسل کے وفد سے ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب اور فتوے کا استعمال افسوسناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں 30 ہزار رجسٹرڈ مدارس میں سائنس، انگریزی بھی پڑھانے کا فیصلہ

اعجاز شاہ کہنا تھا کہ علماء کو فتنہ اور فساد پھیلانے والے عناصر کو بے نقاب کرنا چاہیے، اسلام کا نام لے کر سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے فتوے دینے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مدارس عربیہ کے مقام کو دیکھتے ہوئے وزارت تعلیم سے رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے علما اور حکومت کو مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ مدارس و مساجد کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے۔

مزیدپڑھیں: قومی نصاب کونسل کا پہلا اجلاس، حکومتِ سندھ کی عدم شرکت

اس حوالے سے پاکستان علما کونسل کےمرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ملاقات میں عقیدہ ختم نبوت، مدارس اصلاحات، یکساں نصاب سمیت دیگر امور پر سیرحاصل گفتگو ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف سال 2000 میں پاکستان علما کونسل نے تمام مکاتب فکر کا مشترکہ فتویٰ جاری کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانے والے عناصر کی سرکوبی کے لیے پاکستان علما کونسل حکومت کے ساتھ ہے۔

حافظ محمد طاہر محمود نے بتایا کہ مدارس کو وزارت تعلیم سے منسلک کرنا قابل تحسین عمل، حکومت کے مثبت اقدام کی توثیق ہے۔

مزیدپڑھیں: مدارس اور اسکولوں میں یکساں نصابِ تعلیم نافذ کرنے کی منظوری

علما کے وفد نے واضح کیا کہ غیرشرعی اور غیر آئینی اقدامات کا محاسبہ کریں گے۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ حکومت عید الاضحی کے موقع پر مدارس و مساجد کو قربانی کی کھالیں جمع کرنے کےلیے این او سی میں سہولتیں پیدا کرے۔

انہوں نے وفاقی وزیر سے ملاقات میں واضح کیا کہ مدارس و مساجد کسی بھی انتشار اور فتنہ پھیلانے والی تحریک کا حصہ ہیں اور نہ ہی مدارس کوئی سیاسی ایجنڈہ رکھتے ہیں۔