اسلام آباد میں پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال قابل سزا جرم قرار

اپ ڈیٹ 24 جولائ 2019

ای میل

وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہی ہیں — فوٹو: اے پی پی
وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہی ہیں — فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد میں ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک بیگ کے دوبارہ استعمال پر پابندی کا آغاز کردیا گیا جس کی خلاف ورزی کو دارالحکومت میں قابل سزا جرم ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مملکت زرتاج گل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے 20 لاکھ رہائشی ہر روز 3 سے 4 تھیلیاں استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے شہریوں سے درخواست کی کہ کپڑے کے تھیلے یا ایسے تھیلے استعمال کریں جو ماحول کے لیے نقصان دہ نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کابینہ سے منظور ہونے والی سمری کے مطابق ایک مرتبہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی تھیلوں کی وفاقی دارالحکومت میں دوبارہ استعمال پر ایک لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد ہوگا اور اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا جس کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے چھاپہ مار کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی'۔

مزید پڑھیں: 180 ممالک کا سمندر میں پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنے کیلئے معاہدہ

انہوں نے میڈیا اور سول سوسائٹی سے حکومت کی معاونت کرنے کی بھی درخواست کی۔

زرتاج گل کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کے تھیلے نکاسی کے نظام کے لیے سبب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور ہمارے پاس اس پر مکمل پابندی عائد کرنے کے علاوہ کوئی حل نہیں تھا'۔

مرغزار چڑیا گھر

اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے مرغزار چڑیا گھر کو میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) سے اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) منتقل کرنے میں حائل پیچیدگیوں کی نشاندہی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'این جی اوز کے دباؤ، سول سوسائٹی کی نگرانی اور میڈیا پر جانوروں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی رپورٹس کے بعد وزارت نے ملکیت کی تبدیلی کے لیے پیشکش کابینہ کو بھجوائی، مرغزار چڑیا گھر کا انتظام وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے پاس ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے بھی وزارت کے حق میں فیصلہ سنایا ہے اور چڑیا گھر کا انتظام ماحولیاتی تبدیلی کے تحت آئی ڈبلیو ایم بی کو منتقل کردیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ہنزہ میں پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی

انہوں نے مزید کہا کہ 'میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ وزارت کا ایم سی آئی سے کوئی تنازع نہیں تاہم مرغزار چڑیا گھر کے ڈائریکٹر منتقلی میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے اور جب ہم انتظامات سنبھالنے کے لیے وہاں گئے تو انہوں نے چڑیا گھر کے دروازے بند کردیے تھے'۔

مرغزار چڑیا گھر کا لاہور کے چڑیا گھر سے مقابلہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے چڑیا گھر کا سالانہ بجٹ 11 کروڑ روپے ہے جبکہ اس کی آمدنی 4.5 لاکھ روپے ہے جو بھاری نقصان ظاہر کرتی ہے جبکہ لاہور کے چڑیا گھر کا سالانہ بجٹ 13 کروڑ روپے ہے اور اس کی آمدنی 3 کروڑ 30 لاکھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جانوروں کی رکھوالی کرنے والے افراد جانوروں کے کھانے کے لیے غذا کو اپنے گھر لے جاتے ہیں'۔

رنگ گورا کرنے والی کریم میں پارے کا استعمال

وزیر مملکت نے یہ بھی کہا کہ کاسمیٹکس کی مصنوعات، بالخصوص رنگ گورا کرنے والی کریم میں پارے (مرکری) کی زیادتی کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں دستیاب 57 مقامی و درآمد شدہ رنگ گورا کرنے کی مصنوعات کا ٹیسٹ کیا جس میں سے صرف 3 ہی برانڈ عالمی معیار کے مطابق نکلے جبکہ دیگر 54 میں مرکری کا اضافی استعمال کیا گیا تھا جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاسمیٹکس کی صنعت کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد 31 دسمبر سے ہوگا۔

10 ارب درختوں کا منصوبہ

زرتاج گل نے اعلان کیا کہ 10 ارب درخت لگانے کی مہم کا آغاز وزیر اعظم کے امریکا کے دورے سے واپسی پر کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس مہم کے لیے سلوگن 'پاکستان میں 10 ارب درخت کا سونامی' ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں مون سون کے موسم کے دوران 14 کروڑ پودے لگانے کے منصوبہ بھی جاری ہے۔

انہوں نے مارگلہ کے جنگلات پر قبضے کا بھی اعلان کیا جس کے لیے سمری تیار کی جاچکی ہے۔