اورنج لائن ٹرین منصوبہ جنوری 2020 تک مکمل کرنے کی نئی مہلت

ای میل

منصوبے پر اب تک 169 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں، سیکریٹری ٹرانسپورٹ — فائل فوٹو / اے پی پی
منصوبے پر اب تک 169 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں، سیکریٹری ٹرانسپورٹ — فائل فوٹو / اے پی پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مکمل کرنے کے لیے جنوری 2020 تک کی نئی مہلت دے دی۔

اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کیس کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

قائم مقام چیف جسٹس نے منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ منصوبہ کب مکمل ہوگا؟ اور اب تک کتنے پیسے خرچ ہوچکے ہیں؟

سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے آگاہ کیا کہ منصوبے پر اب تک 169 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ منصوبے میں تاخیر سے لاگت بڑھ رہی ہے، کیا اضافی لاگت آپ ادا کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ہر حال میں منصوبہ مکمل کروائی گی۔

یہ بھی پڑھیں: قانونی ’بے قاعدگیوں‘ پر اورنج ٹرین کے انتظام و انصرام کا ٹھیکہ منسوخ

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ منصوبہ گزشتہ حکومت نے شروع کیا تھا جو اکتوبر 2018 میں مکمل ہونا تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراجکٹ ڈائریکٹر سبطین فضل حلیم سے کام جاری رکھوانے یا ان کا متبادل لانے کا کہا تھا کیونکہ وہ شروع سے منصوبے کو دیکھ رہے ہیں۔

سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے کہا کہ سبطین فضل حلیم کو توسیع دینے کے لیے سفارش کر دی گئی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ سبطین صاحب، کب تک ٹرین چل جائے گی، نومبر تک ٹرین چلانے کا بتایا گیا تھا۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر نے آزمائشی ٹرین چلانے سمیت دیگر تکنیکی جانچ کے لیے جنوری 2020 تک کا وقت دینے کی استدعا کی جسے منظور کر لیا گیا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا اورنج لائن ٹرین منصوبہ 20 مئی تک مکمل کرنے کا حکم

عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اورنج لائن منصوبے کی نگرانی اب خود کرے گی۔

کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو تعمیراتی کمپنیوں کو بر وقت ادائیگیوں کی بھی ہدایت کی تھی۔

بعد ازاں اپریل میں عدالت عظمیٰ نے منصوبہ 20 مئی تک مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے 3 تعمیراتی کمپنیوں سے ایک ایک کروڑ روپے کی گارنٹی مانگی تھی۔

گزشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل اور کمپنیوں کی ادائیگی سے متعلق کیس میں ایک عدالتی ثالث مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔