بھارت: مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا بل لوک سبھا سے منظور

اپ ڈیٹ 07 اگست 2019

ای میل

لوک سبھا میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اکثریت ہے—فوٹو: اے پی
لوک سبھا میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اکثریت ہے—فوٹو: اے پی

بھارت میں لوک سبھا (ایوان زیریں) سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے ’جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019‘ بھاری رائے شماری سے منظور کرلیا گیا۔

لوک سبھا میں مذکورہ متنازع بل کے حق میں 367 جبکہ مخالفت میں صرف 67 ووٹ پڑے جبکہ پارلیمنٹ میں کوئی بھی رکن پارلیمنٹ غیر حاضر نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: 'بھارت، کشمیر میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی کا آغاز کرنے والا ہے'

خیال رہے کہ لوک سبھا میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اکثریت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے پر بھارتی وزیر داخلہ نے اسے ’تاریخی‘ فیصلہ قرار دیا جس کے تحت مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا براہ راست کنٹرول ہوگا۔

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیا سبھا میں پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صدر نے بل پر دستخط کر دیئے ہیں۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں دوسرے روز بھی مواصلاحات کے سارے نظام معطل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

خیال رہے کہ 5 اپریل کو راجیا سبھا (ایوان بالا) سے مذکورہ بل اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود پاس ہو گیا تھا۔

خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

آرٹیکل 370 کو ختم کرکے وہاں کونسٹی ٹیوشن (ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر) آرڈر 2019 کا خصوصی آرٹیکل نافذ کردیا گیا ہے، جس کے تحت اب بھارتی حکومت مقبوضہ وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں بھارتی قوانین کا نفاذ بھی کرسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کشمیریوں کا حق خود ارادیت نہیں چھین سکتا، راجا فاروق

راجیا سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ 'بی جے پی نے آج آئین کا قتل کردیا، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور آئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیں گے'۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ ’جموں اور کشمیر کی قیادت کی جانب سے 1947 میں 2 قومی نظریے کو رد کرنا اور بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ آج غلط ثابت ہوا، بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، جس سے بھارت، جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا'۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کیا ہے؟

واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں اور کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

اس خصوصی آئینی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیاتی اور خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی ریاست یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے، تاہم آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔

مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 35 'اے' اسی آرٹیکل کا حصہ ہے جو ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو ریاست کے مستقل شہریوں کے خصوصی حقوق اور استحقاق کی تعریف کے اختیارات دیتا ہے۔

مزیدپڑھیں: بھارت نے کنٹرول لائن پر کلسٹر بم سے شہریوں کو نشانہ بنایا، آئی ایس پی آر

1954 کے صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 35 'اے' آئین میں شامل کیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو خصوصی حقوق اور استحقاق فراہم کرتا ہے۔

اس آرٹیکل کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا شخص ہی وہاں کا شہری ہو سکتا ہے۔

آرٹیکل 35 'اے' کے تحت مقبوضہ وادی کے باہر سے کسی شہری سے شادی کرنے والی خواتین جائیداد کے حقوق سے محروم رہتی ہیں، جبکہ آئین کے تحت بھارت کی کسی اور ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

آئین کے آرٹیکل 35 'اے' کے تحت مقبوضہ کشمیر کی حکومت کسی اور ریاست کے شہری کو اپنی ریاست میں ملازمت بھی نہیں دے سکتی۔