مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر قائم کمیٹی میں امیر جماعت اسلامی کو شامل کرنے کا فیصلہ

ای میل

سینیٹر سراج الحق کو باقاعدہ دعوت دی جائے گی—فائل فوٹو: ڈان نیوز
سینیٹر سراج الحق کو باقاعدہ دعوت دی جائے گی—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارتی اقدامات کا جائزہ لینے اور ان پر سفارشات ترتیب دینے کے لیے بنائی گئی 7 رکنی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اس کمیٹی میں اپوزیشن کو شامل ہونے کی دعوت دے گی۔

اس کے علاوہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق کو بھی اس کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی جبکہ صدر اور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور گورنر گلگت بلتستان کو بھی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال: وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دے دی

خیال رہے کہ 6 اگست کو وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال پر قانونی، سیاسی ، سفارتی ردعمل سے متعلق سفارشات تیار کرنے کے لیے ایک 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اس کمیٹی وزیرخارجہ، اٹارنی جنرل فار پاکستان، سیکریٹری خارجہ، ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر اور وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی شامل کیا تھا۔

یاد رہے کہ 5 اگست کو بھارتی حکومت نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا اور وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات معطل اور سفارتی تعلقات محدود کردیے تھے۔

پاکستان نے یہاں موجود بھارتی ہائی کمشنر کو ملک سے واپس جانے کی ہدایت کی تھی جبکہ اپنے نامزد ہائی کمشنر کو نئی دہلی بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے غلطی کی تو خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، وزیراعظم

اس کے علاوہ بھارت سے ثقافتی تعلقات کی معطلی کا اعلان بھی سامنے آیا تھا جبکہ 14 اگست کو یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ساتھ ہی پاکستان نے 15 اگست یعنی بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔

علاوہ ازیں پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ اور تھر ایکسپریس اور بس سروس کو بھی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔