ناروے پولیس نے مسجد پر حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 11 اگست 2019

ای میل

سفید فام مسلح شخص نے النور اسلامک سینٹر کو نشانہ بنایا—بشکریہ گوگل
سفید فام مسلح شخص نے النور اسلامک سینٹر کو نشانہ بنایا—بشکریہ گوگل

ناروے کی پولیس نے اوسلو کے مضافات میں قائم مسجد پر مسلح حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حملہ آوار نے النور اسلامک سینٹر میں فائرنگ کی تھی جس سے ایک معمر نمازی جاں بحق ہو گئے تھے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے حملے میں ملوث ایک سفید فام مسلح شخص کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

مزیدپڑھیں: امریکا: مسلم خاتون رکن کانگریس کو قتل کی دھمکی، ملزم گرفتار

تازہ پیش رفت سے متعلق مقامی میڈیا نے بتایا کہ پولیس آپریشن کے قائم مقام چیف رنی اسکوجڈل نے واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا اور بتایا کہ زیر حراست حملہ آوار انتہاپسندانہ سوچ کا حامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیر حراست ملزم غیرمقامی افراد کے خلاف پرتشدد خیالات رکھتا ہے۔

ناروے کے میڈیا نے رپورٹ کیا کہ زیر حراست مشتبہ شخص نے آن لائن نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کی حمایت کی تھی۔

ناروے: مسجد پر مسلح شخص کا حملہ

گزشتہ روز اوسلو کے مضافات میں قائم مسجد میں مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک نمازی جاں بحق ہوگئے تھے۔

اوسلو پولیس نے ٹوئٹر پر بتایا کہ ایک عمر رسیدہ شخص کو گولی لگی اور ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا

النور اسلامک سینٹر کے سربراہ نے بتایا تھا کہ حملہ آوار شخص سفید فام تھا اور اس نے ہیلمنٹ اور ’یونیفارم‘ پہن رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کیوبک مسجد فائرنگ مسلمانوں پر 'دہشتگرد حملہ' قرار

دی انڈیپینڈنٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق سینٹر کے ایک رکن عرفان مشتاق نے بتایا تھا کہ مسلح شخص نے فائرنگ کی لیکن جلد ہی اسے پکڑ لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آوار شخص کے پاس دو شاٹ گن اور ایک پستول تھا اور اس نے مسجد کے دروازے کا شیشہ توڑ کر فائرنگ کی۔

واضح رہے کہ عالمی سطح پر حالیہ عرصے میں مسلمان مخالف حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رواں برس 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں نماز جمعہ سے قبل مسلح حملوں میں 50 افراد شہید جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد تمام مغربی ممالک میں مساجد کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظام کیے جارہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر دہشت گرد حملے میں 9 پاکستانی بھی شہید ہوئے تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے حملوں کو 'دہشت گردی' قرار دیا تھا۔

مزیدپڑھیں: برطانیہ: خاتون نے عید کے اجتماع پر گاڑی چڑھادی

جون میں فرانس کے مغربی شہر بریسٹ میں قائم ایک مسجد پر نامعلوم شخص کی فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہوگئےتھے تاہم حملہ آوار گرفتار نہیں ہو سکا تھا۔

فروری میں کینیڈا کی عدالت نے 2017 میں مسجد پر حملہ کرکے 6 مسلمانوں کو قتل کرنے والے فرانسیسی نژاد کینیڈین شہری کو 40 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

29 سالہ الیکشنڈر بسسنٹٹ نے اسلامک کلچرل سینٹر میں فائرنگ کی تھی اور اس وقت وہاں 50 سے زائد افراد نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے۔