امریکا: مسلم خاتون رکن کانگریس کو قتل کی دھمکی، ملزم گرفتار

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2019

ای میل

الہان اس سے قبل بھی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب اسرائیل پر تنقید کرتی رہی ہیں — فوٹو: اے ایف پی
الہان اس سے قبل بھی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب اسرائیل پر تنقید کرتی رہی ہیں — فوٹو: اے ایف پی

امریکی کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر کو ’مسلمان‘ ہونے کی بنیاد پر قتل کی دھمکی دینے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'سی این این' کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے مغربی ضلع میں قائم امریکی اٹارنی کے دفتر نے دھمکانے والے شخص کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

درج شکایت میں بتایا گیا کہ ’نیویارک کے علاقے ایڈیسن کے رہائشی پیٹریک کارلائینو نے الہان عمر کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر قتل کرنے کی دھمکی دی‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: یہود مخالف بیان پر مسلم خاتون رکنِ کانگریس کی معذرت

ایف بی آئی ایجنٹ نے جمع کرائے حلف نامے میں بتایا کہ الہان عمر کے واشنگٹن ڈی سی آفس میں 21 مارچ کو ایک شخص نے بذریعہ فون دھمکی دی۔

انہوں نے کہا کہ ’فون کرنے والے شخص نے اپنی شناخت پیٹ کارلائینو کے نام سے کرائی‘۔

ایف بی آئی ایجنٹ نے مزید بتایا کہ ’کارلائینو نے فون پر کہا کہ کیا تم اسلامی بھائی چارے کے لیے کام کرتے ہو؟ تم کیوں الہان عمر کے لیے کام کرتے ہو، یہ عورت دہشت گرد ہے اور میں اس کے سر میں گولی مار دوں گا‘۔

مزید پڑھیں: امریکا: مسلمان اراکینِ پارلیمنٹ کی اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت سے نئے تنازع کا آغاز

بعد ازاں ایف بی آئی ایجنٹ نے فوراً پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوگیا۔

زیر حراست پیٹریک کارلائینو نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ ’وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے محبت اور ہماری حکومت میں سخت گیر مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے‘۔

ملزم نے دوران حراست اقرار کیا کہ ’اگر ہمارے آباؤ اجداد زندہ ہوتے تو وہ (الہان عمر) کے سر میں گولی مار دیتے‘۔

مقامی اخبار کے مطابق ملزم کو جمعہ کے روز امریکی مجسٹریٹ جج کے سامنے پیش کیا گیا، جبکہ اگلی سماعت بدھ کو ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 2 مسلمان خواتین رکنِ پارلیمنٹ منتخب

واضح رہے کہ الہان عمر ریاست منیسوٹا سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ ہیں جنہیں گزشتہ برس کے وسط مدتی انتخابات میں کامیابی ملی۔

اس سے قبل الہان عمر نے اپنے اسرائیل مخالف بیان پر بھی معافی مانگی تھی جس میں انہوں نے امکان ظاہر کیا تھا اسرائیل کے لیے امریکی اراکین کی حمایت کے پسِ پردہ وہ رقم ہے جو اسرائیل حمایتی لابی فراہم کرتی ہے۔