افغانستان سے فوجی انخلا کیلئے امریکا اور طالبان میں مذاکرات کا ایک اور دور ختم

12 اگست 2019

ای میل

مذاکرات کا آٹھواں دور قطر میں ہوا—فائل فوٹو: اے پی
مذاکرات کا آٹھواں دور قطر میں ہوا—فائل فوٹو: اے پی

طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے اور امریکا کے درمیان افغانستان سے ہزاروں امریکی فوجیوں کے انخلا پر ہونے والے مذاکرات کا حالیہ دور ختم ہوگیا اور اب دونوں فریق اگلے لائحہ عمل کے لیے اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے۔

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ خلیجی ملک قطر میں ہونے والا مذاکرات کا آٹھواں دور 'طویل اور مفید' تھا اور یہ اختتام پذیر ہوگیا۔

تاہم انہوں نے مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے طالبان کے ایک اور ترجمان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے کے بعد کسی معاہدے کی توقع ہے کیونکہ دونوں فریقن امریکا کے سب سے بڑے تنازع تقریباً 18 سالہ جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان امن مذاکرات کے ساتویں مرحلے سے قبل طالبان کی میڈیا کو دھمکی

اگر یہ معاہدہ ہوجاتا ہے تو متوقع طور پر اس میں طالبان کی یہ ضمانت شامل ہوگی کہ افغانستان مستقبل میں کسی دوسرے عسکریت پسند گرہوں کے لیے پناہ گاہ نہیں ہوگا، تاہم دونوں داعش اور القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند ابھی بھی اس ملک میں متحرک ہیں۔

دوسری جانب طالبان تقریباً روزانہ کی بنیاد پر افغانستان میں حملے کرتے ہیں، جس میں زیادہ تر افغان فورسز اور حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنایا جاتا لیکن اس میں کئی شہری بھی ہلاک ہوتے ہیں۔

اس معاہدے میں جنگ بندی اور اس شرط کو بھی شامل کیا جاسکتا کہ طالبان افغان نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کریں گے، اگرچہ عسکریت پسند گروپ اب تک کابل کے نمائندوں سے بات چیت سے انکاری رہا ہے کیونکہ ان کے بقول افغان حکومت امریکا کی کٹھ پتلی ہے۔

تاہم اس تمام صورتحال امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن گزشتہ روز ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ 'امید ہے کہ یہ جنگ زدہ افغانستان کی آخری عید ہے'۔

واضح رہے کہ افغانستان میں اتوار 11 اگست کو عیدالاضحیٰ کا پہلا روز تھا اور یہ دن ملک سے کوئی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع بغیر گزر گیا تھا۔

زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ 'مختلف اسکالرز سمجھتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ کا معنیٰ اپنی انا کو قربان کرنا ہے، لہٰذا افغانستان میں جنگ کے دونوں فریقین کے رہنما اس کو دل سے اپنائیں کیونکہ ہم امن کے لیے کوشاں ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: افغان امن عمل: طالبان وفد کے چینی حکام سے مذاکرات

ادھر افغانستان میں موجود کچھ حلقے اسے افغان صدر اشرف غنی کو دیے جواب کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

افغان صدر نے کہا تھا کہ 'ہمارے مستقبل کا فیصلہ باہر سے نہیں ہوسکتا، چاہے پھر وہ ہمارے دوستوں یا ہمسایہ ممالک کے مرکزی شہروں میں ہو، افغانساتن کی تقدیر کا فیصلہ اسی ملک میں کیا جائے گا، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ہمارے معاملات میں مداخلت کرے'۔

اشرف غنی جہاں ایک طرف زور دے رہیں ہیں کہ جنگ کے برسوں بعد ملک کے مستقبل کے فیصلے اور افغانستان کے رہنما کو طاقتور مینڈیٹ دینے کے لیے28 ستمبر کے صدارتی انتخابات ضروری ہیں تو وہیں خلیل زاد ووٹنگ کے عمل سے قبل یکم ستمبر تک امن معاہدے کے خواہاں ہیں۔