غیر ملکی کوچز پاکستان کی کرکٹ میں بہتری نہیں لا سکتے، سرفراز نواز

17 اگست 2019

ای میل

سرفراز نواز نے لیگ اسپن کے ماہر عبدالقادر کو اگلا چیف سلیکٹر مقرر کرنے کی حمایت کی — فائل فوٹو / اے پی پی
سرفراز نواز نے لیگ اسپن کے ماہر عبدالقادر کو اگلا چیف سلیکٹر مقرر کرنے کی حمایت کی — فائل فوٹو / اے پی پی

لاہور: سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر زور دیا ہے کہ وہ قومی ٹیم کے لیے کسی غیر ملکی کوچ کی خدمات نہ لے۔

سرفراز نواز نے پی سی بی پر اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ڈپارٹمنٹل ٹیموں کو قائد اعظم ٹرافی جیسے فرسٹ کلاس ایونٹ میں نہیں تو کم از کم قومی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی ایونٹس میں کھیلنے کی اجازت دے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے غیر ملکی کوچز طویل عرصے کے لیے پاکستان میں بہت کم قیام کرتے ہیں جو ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ غیر ملکی کوچز ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا کھیلنے والے کھلاڑیوں اور ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے مختلف شہروں میں زیادہ سفر کے لیے بھی راضی نہیں ہوتے۔'

اس لیے کوئی غیر ملکی کوچ پاکستان کی کرکٹ میں بہتری کے مقصد کو پورا نہیں کر سکتا اور یہ اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے جب اس جانب مستقل توجہ دی جائے، اسی وجہ سے میرا خیال ہے کہ باصلاحیت و قابل پاکستانیوں کی ہیڈ کوچ، بیٹنگ، فیلڈنگ اور باؤلنگ کوچز کے طور پر خدمات لی جانی چاہیئں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے پی سی بی کے نئے آئین کی منظورے دے دی

سرفراز نواز نے لیگ اسپن کے ماہر عبدالقادر کو اگلا چیف سلیکٹر مقرر کرنے کی حمایت کی، جبکہ لاہور قلندرز چھوڑنے کی صورت میں سابق فاسٹ باؤلر عاقب جاوید کو باؤلنگ کوچ کے عہدے کے لیے مناسب انتخاب قرار دیا۔

انہوں نے پی سی بی کی جانب سے مصباح الحق کو سیزن کے آغاز سے قبل کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپ کی کمانڈ دینے کے فیصلے کو سراہا اور بورڈ پر زور دیا کہ وہ سابق کپتان کو قومی ٹیم کے ساتھ کوئی مستقل کردار بھی دے۔

ان کا کہنا تھا کہ مصباح الحق کو کیمپ کی کمانڈ دینے کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ انہیں قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ بنا دیا جائے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کرکٹ بورڈ پر اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ پر مکمل پابندی نہ لگائے اور تجویز پیش کی کہ وہ کھلاڑیوں کو قائد اعظم ٹرافی جیسے فرسٹ کلاس ایونٹ میں نہیں تو کم از کم قومی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی ایونٹس میں کھیلنے کی اجازت دے۔

انہوں نے کہا کہ 'ڈپارٹمنٹل کرکٹ پر مکمل پابندی سے پیشہ ورانہ کرکٹرز کی بڑی تعداد اور ان کا سپورٹ اسٹاف اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور اس کا نتیجہ صرف بے روزگاری کی صورت میں نکلے گا۔'

مزید پڑھیں: پی سی بی کو پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، عامر سہیل

خیال رہے کہ کرکٹ بورڈ کے حال ہی میں منظور ہونے والے نئے آئین کے تحت ڈپارٹمنٹل سسٹم ختم کردیا گیا ہے اور اب ٹیمیں صوبائی سطح پر ڈومیسٹک کرکٹ کا حصہ ہوں گی۔

نئے آئین کے تحت پنجاب، جنوبی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کیپیٹل ایریاز کے نام سے 6 ٹیمیں فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کھیلیں گی۔

اس نظام کی بدولت کھلاڑیوں کو صوبائی سطح پر سینٹرل کنٹریکٹ فراہم کیا جائے گا تاکہ کھلاڑیوں کو روزگار کی پریشانی سے نجات دلائی جا سکے۔

ہر صوبائی ٹیم کے 32 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا جائے گا جس کی بدولت مجموعی طور پر 200 کھلاڑی اس سے استفادہ کر سکیں گے۔


یہ خبر 17 اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔