اینیمیٹیڈ فلموں کے عظیم تخلیق کار ’رچرڈ ولیمز‘ کی یاد

21 اگست 2019

ای میل

عالمی سینما میں 3 مرکزی ادوار کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا،

  • پہلا دور جب خاموش فلمیں بنا کرتی تھیں،
  • دوسرا دور جب بولتی فلمیں بننا شروع ہوئیں اور ان میں رنگ بھرے گئے،
  • تیسرا دور جب اینیمیٹیڈ فلموں کی تخلیق ہوئی۔

اس تیسرے دور کے ابتدائی اور عظیم تخلیق کاروں میں سے ایک نام ’رچرڈ ولیمز‘ کا ہے۔ ولیمز جو اپنی ذات میں اینیمیٹیڈ آرٹ کے ادارے کی حیثیت رکھتے تھے، مگر اب یہ روشن عہد تمام ہوا، اور اس شعبے کی تاریخ رقم کرنے والے ان کی خدمات کا اعتراف سنہری حروف میں کریں گے۔

معروف اینیمیٹیڈ فلم ساز کی زندگی کے چند اوراق

کینیڈین نژاد برطانوی رچرڈ ولیمز کی پیدائش 19 مارچ 1933ء کی ہے جبکہ انتقال 16 اگست 2019ء کو ہوا۔ ولیمز کی صاحبزادی کے مطابق، جس دن ان کی موت ہوئی، وہ اس دن بھی کچھ گھنٹے پہلے تک اپنے کام میں ہمہ تن مصروف تھے، ایسا محسوس ہوتا ہے جب انہیں احساس ہوا کہ ان کا وقتِ آخر آ پہنچا ہے تو انہوں نے بہت اطمینان سے اپنا تخلیقی سامان سمیٹ کر ایک طرف رکھا اور اپنی نشست سے کھڑے ہوکر موت کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور بولے ’چلیے‘۔

50 برس سے زیادہ عرصے تک مسلسل کام کرنے والے اس آرٹسٹ کو ایک بھی لمحے کے لیے تھکن کا احساس نہیں ہوا، ان کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ اسی کام کے لیے پیدا ہوئے تھے، جسے آخری وقت تک نبھایا۔ اپنے کام سے عشق کرنا شاید اسی کو کہتے ہیں۔

رچرڈ ولیمز —تصویر بشکریہ Mary Evans Picture Library
رچرڈ ولیمز —تصویر بشکریہ Mary Evans Picture Library

وہ اینیمیٹیڈ فلموں کے ہدایت کار ہونے کے علاوہ صدا کار اور کہانی نویس بھی تھے۔ بچپن میں اپنی والدہ کے ہمراہ جب ڈزنی اسٹوڈیو جایا کرتے تو نہ صرف وہاں کے مختلف افسانوی کردار انہیں متاثر کرتے، جن میں ’سنو وائٹ‘ کا کردار سرِفہرست تھا، بلکہ اس وقت کے تمام نمایاں اینیمیشن فنکاروں سے ملاقاتیں بھی کرتے، اپنے جنون اور تجسس کو بیان کرتے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب کئی آرٹسٹ آگے چل کر ان کے اچھے پیشہ ور رفیق اور دوست ثابت ہوئے۔

اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے میں رچرڈ ولیمز نے کوئی غلطی نہیں کی، یہی نہیں بلکہ جب انہوں نے اس فن پر مکمل عبور حاصل کرلیا تو 2008ء میں نئے آنے والے آرٹسٹوں کے لیے ایک جامع کتاب اور 16 ڈی وی ڈیز پر مشتمل ’The Animator's Survival Kit‘ لکھی اور ڈیزائن کی، جس کی مدد سے اس شعبے میں نئے آنے والوں کے سیکھنے کے لیے نظری اور عملی طور پر ایک علمی و تخلیقی خزانہ موجود ہے۔

انہوں نے اپنے جنون کو درست سمت میں گامزن کیا، ایک کے بعد دوسری اور تیسری منزل کو پاتے چلے گئے۔ وہ اسی راستے سے ہوکر عالمی سطح پر اپنی شہرت کو سمیٹنے میں کامیاب ہوئے۔ کینیڈا سے برطانیہ منتقل ہونے والے اس نوجوان فنکار نے اپنے دل میں جتنی خواہشوں کو جگہ دی تھی ان سب کی تکمیل میں خود کو جھونک دیا اور پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب رہے۔

ان کی ابتدائی فنی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا، جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ شاید ایک اچھے اینیمیٹیڈ آرٹسٹ نہیں بن سکتے اس لیے اپنی توجہ مصوری کی طرف مرکوز کی، لیکن کچھ عرصے میں ان پر یہ بات پوری طرح عیاں ہوگئی کہ وہ صرف اور صرف اینیمیٹیڈ آرٹ تخلیق کرنے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ اپنے آپ کو پہچان لینے کے بعد وہ اس جدوجہد میں پوری توانائی کے ساتھ شامل ہوگئے اور پھر انہوں نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا اور فاتح بن کر ہی دم لیا۔

کرسمس کیرال کا اسکرین شاٹ
کرسمس کیرال کا اسکرین شاٹ

لکیروں کو تصویروں میں بدلنے کا فن رچرڈ ولیمز کو والدین سے ورثے میں ملا تھا۔ ان کی والدہ کمرشل خاکہ نگار (Illustrator) تھیں جبکہ ان کے والد مصور اور فوٹوگرافر تھے، لیکن والدین کی علیحدگی سے رچرڈ ولیمز کو جدائی کا صدمہ سہنا پڑا، پھر ان کی زندگی میں سوتیلے والد کینتھ ڈی سی ولیمز آئے جنہوں نے ان کو حقیقی باپ کی شفقت اور محبت دی۔ رچرڈ ولیمز نے ٹورنٹو کے ناردرن سیکنڈری اسکول سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ’اونٹاریو کالج آف آرٹس‘ سے مزید تعلیم حاصل کی۔

محنت کرنے کی عادت اور سوتیلے باپ کی شفقت نے کم عمری میں ہی ان پر کامیابی کے دروازے کھولنا شروع کردیے۔ انہوں نے 16 برس کی عمر میں بحیثیت کمرشل آرٹسٹ کام شروع کردیا تھا۔ 20 سال کی عمر میں کینیڈا سے قسمت آزمانے باہر نکلے۔ 2 برس ہسپانوی جریدے ’ابیزا‘ سے منسلک رہنے کے بعد برطانیہ پہنچے اور وہاں مستقل سکونت اختیار کی۔

ایک طرف کیرئیر بنایا تو دوسری طرف دل پھینک طبیعت نے ان کو دوشیزاؤں کی طرف بھی مائل رکھا۔ مزاج میں رومانویت کی وجہ سے کئی معاشقے اور متعدد شادیاں کیں اور ایک خوشحال زندگی گزاری، لیکن سب سے زیادہ محبت اپنے کام سے رہی، جس سے وابستگی کا احساس تادم مرگ رہا۔

رچرڈ ولیمز— شٹراسٹاک
رچرڈ ولیمز— شٹراسٹاک

رچرڈ ولیمز 1955ء میں جب برطانیہ آئے تو اس وقت ان کی عمر صرف 22 برس تھی۔ یہاں ان کے کینیڈین آرٹسٹ دوست رہتے تھے، جن کا کارٹون ٹیلی وژن کا کام تھا، ان کے ساتھ مل کر اپنے کیرئیر کے نئے دور کی ابتدا کی۔

یوں انہوں نے ابتدائی طور پر ٹیلی وژن اشتہارات کی تخلیق میں اپنے فن کا استعمال کیا۔ چند برسوں میں ہی انہیں شہرت ملنا شروع ہوگئی۔ جب فلم سازی میں قدم رکھا تو اپنی پہلی شارٹ فلم ’دی لٹل آئس لینڈ‘ بنائی، جس کے پروڈیوسر ہونے کے علاوہ ڈائریکٹر اور آرٹسٹ بھی یہ خود ہی تھے۔ اس فلم کو بڑے پیمانے پر کامیابی ملی اور انہیں برطانیہ کے سب بڑے ایوارڈ ’دی برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی وژن آرٹس (بافٹا)‘ سے نوازا گیا، یہیں سے قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہونا شروع ہوئی۔

70ء کی دہائی کی شروعات ان کے لیے ڈھیر ساری خوش نصیبی لائی۔ 1971ء میں ٹیلی وژن کے خصوصی منصوبے کے لیے 'اے کرسمس کیرال' A Christmas Carol جیسی فلم تخلیق کی، یہ چارلس ڈکنز کے ناول پر مبنی تھی، فلم کا نام بھی ناول کے نام پر ہی رکھا گیا۔ اس فلم کی شاندار تخلیق پر انہیں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اسی طرح 1977ء میں موسیقی کے تناظر میں ایک اور شاندار اینیمیٹیڈ فلمی منصوبہ 'ریگیڈی این اینڈ اینڈی' (Raggedy Ann & Andy) تھا جبکہ 1982ء میں 'زیگیز گفٹ' (Ziggy's Gift) پر نامور ایوارڈ ایمی بھی انہیں دیا گیا۔ اس کے بعد ان کا مشہورِ زمانہ تخلیقی منصوبہ 'ہُو فریمڈ روجر ریبٹ' (Who Framed Roger Rabbit) مکمل ہوا، اس فلم کو بے پناہ مقبولیت ملی اور یہ کام ساری زندگی ان کے کام کے بہترین حوالے کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ اس پر انہیں ایک مرتبہ پھر آسکر ایوارڈ ملا اور کامیابی ان کے قدم چومتی چلی گئی۔

ان کے تخلیقی جوہر وقت کے ساتھ ساتھ مزید نکھرتے گئے۔ مشہورِ زمانہ کارٹون پنک پینتھر (Pink Panther) پر مبنی 2 فلموں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے تخلیق کے بامِ عروج کو پالیا۔ اپنے کیریئر میں 3 آسکر اور 3 بافٹا ایوارڈز کے علاوہ سیکڑوں ایوارڈز حاصل کیے۔

کارٹون کی دنیا کے معروف آرٹسٹ ’بوب گاڈفرے‘ کے ساتھ مل کر کاروباری شراکت میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مزید اظہار کیا۔ 80ء کی دہائی کے نصف تک یہ شراکت داری جاری رہی اور The Thief Who Never Gave Up جیسی فلم اپنے کریڈٹ کے ساتھ تخلیق کی، اور اس کو بھی بہت زیادہ پسند بھی کیا گیا۔ ہولی وڈ کے مشہورِ زمانہ فلم ساز ’اسٹیون اسپیل برگ‘ کے ساتھ کئی مشترکہ منصوبوں میں کام کیا اور ان کی امیدوں پر مکمل طور سے پورے اترے۔

اسی طرح زندگی بھر یہ جن مختصر اور فیچر فلموں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے رہے، ان کی ترتیب کچھ یوں ہے۔

  • دی لِٹل آئی لینڈ - (The Little Island) (1958) ہدایت کار، کہانی نویس، پیش کار، اینیمیٹر
  • لَو می، لوَ می، لوَ می - (1962) (Love Me, Love Me, Love Me) ہدایت کار، کہانی نویس، پیش کار، اینیمیٹر
  • اے لیکچر آن مین - (1962) (A Lecture on Man) ہدایت کار، کہانی نویس، پیش کار، اینیمیٹر
  • دی ایپل - (The Apple) (1963) ڈیزائنر، اسٹوری بورڈ آرٹسٹ
  • ڈائری آف اے میڈ مین - (Diary of a Madman) (1963) غیر تکمیل شدہ منصوبہ
  • دی ڈرمس پراب - (The Dermis Probe) (1965) ہدایت کار، لکھاری، ایڈیٹنگ
  • دی سیلر اینڈ دی ڈیول - The Sailor and the Devil) (1965) پیش کار
  • دی ایور چینجنگ موٹر کار - (The Ever-Changing Motor Car) (1965) لکھاری
  • اے کرسمس کیرال (آسکر انعام یافتہ ٹی وی مووی) - (A Christmas Carol) (1971) ہدایت کار، پیش کار۔
  • ریگیڈی این اینڈ اینڈی: اے میوزیکل ایڈونچر - (Raggedy Ann & Andy: A Musical Adventure) (1977) ہدایت کار، پروڈکشن سپروائزر، اینیمیٹر
  • زیگیز گفٹ (ٹی وی مووی) - (Ziggy's Gift) (1982) ہدایت کار، پیش کار، کروکڈ سانٹا نامی کردار کی صداکاری
  • بگس بنیز وائلڈ ورلڈ آف اسپورٹس (ٹی وی اسپیشل) - (Bugs Bunny's Wild World of Sports) (1988) اسسٹنٹ اینیمیٹر
  • ہُو فریمڈ روجر ریبٹ - (Who Framed Roger Rabbit) (1988) اینیمیشن ڈائریکٹر، ڈروپی نامی کردار کی صداکاری
  • ٹمی ٹربل - (Tummy Trouble) (1989) ڈروپی نامی کردار کی صداکاری
  • دی تھیف اینڈ دی کوبلر - (The Thief and the Cobbler) (1993) ہدایت کار، اسکرین پلے، پیش کار، لیڈ اینیمیٹر، لافنگ بریگنڈ
  • سرکس ڈرائینگز - (Circus Drawings) (2010) ہدایت کار، اینیمیٹر
  • پرولوگ - (Prologue) (2015) ہدایت کار، اینیمیٹر (آسکر کے لیے نامزد ہوئی)

رچرڈ ولیمز کے خیال میں ’ہم ایک سے زیادہ شخصیات کے مالک ہوتے ہیں، تہہ در تہہ، اگر خوش نصیبی ساتھ ہو تو یہ تمام پہلو بالترتیب ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے چلے جائیں گے۔‘

انہوں نے اینیمیٹیڈ فلموں کی دنیا میں تھری ڈی پرسپییکٹیو موومنٹ کا بھی استعمال کیا، جس کی وجہ سے ان کے کام میں نکھار آیا اور وہ اپنے ہم عصر آرٹسٹوں کے مقابلے میں بہت کم وقت میں شہرت سمیٹتے چلے گئے۔

رچرڈ ولیمز نے ساری زندگی قلم اور کاغذ سے اپنا ناطہ استوار رکھا، لکیروں سے تصویریں بناتے چلے گئے۔ ان تصویروں کو متحرک پردے پر انڈیلا تو شاندار اینیمیٹیڈ فلمیں تخلیق ہوئیں اور نت نئے کرداروں کا جہان آباد ہوا۔

اس سارے منظرنامے میں وہ خود ایک تماش بین کے طور پر موجود رہے پھر دھیرے دھیرے اپنے چاہنے والوں کو بھی اس کھیل میں شامل کرلیا۔ کئی نوجوان نسلیں ان کے تخلیقی کام کی مداح ہیں، یہی مداح سرائی ان کی زندگی کا حاصل ہے جس سے ان کی اپنی زندگی میں رنگ بھرے محسوس ہوتے ہیں۔

آج وہ ہم میں نہیں رہے لیکن وہ اپنے کرداروں اور کہانیوں کے ساتھ اپنے ہونے کی شدید یاد دلاتے رہیں گے۔

انہیں کوئی بھی زمانہ اور عہد فراموش نہیں کرسکتا کیونکہ یہ خود زمانہ اور عہد ہوتے ہیں۔ ہم نے آج جس کو یاد کیا وہ رچرڈ ولیمز کا عہد تھا، جس میں کرداروں اور کہانیوں نے حرکت پذیری کے وہ نئے تخلیقی معانی دریافت کیے، جن کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔

دی لٹل آئی لینڈ کا مختصر کلپ