مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت جھوٹا آپریشن کرسکتا ہے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے دعوے متوقع تھے، وزیراعظم — فائل فوٹو/ اے ایف پی
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے دعوے متوقع تھے، وزیراعظم — فائل فوٹو/ اے ایف پی

وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹا آپریشن کرے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’میں عالمی برادری کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ بھارتی قیادت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور وہاں برقرار خوف کی فضا سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی جھوٹا آپریشن کرنے کی کوشش کرے گی‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’بھارتی میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے داخل ہوئے، جبکہ کچھ دہشت گرد بھارت کے جنوبی علاقوں میں داخل ہوئے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر: فرانسیسی صدر کا بھارت سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر زور

انہوں نے کہا کہ ’بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے دعوے متوقع تھے‘۔

وزیر اعظم عمران خان نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 'جی-7' اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچ چکے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق گزشتہ روز فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے نریندر مودی سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بحران پر پاکستان سے مذاکرات کرنے پر زور دیا تھا۔

اس سے قبل 21 اگست کو نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز پیش کرنے کی کوشش کے تحت مقبوضہ کشمیر میں جھوٹے آپریشن کے امکانات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا تھا کہ پاکستان کو ردعمل دینے پر مجبور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن کے 16روز، 152 زخمی ہسپتال منتقل

عمران خان نے کہا تھا کہ ’اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے‘۔

انہوں نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے، دنیا کو اس صورتحال سے خبردار رہنا چاہیے‘۔

واضح رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق صدارتی فرمان جاری کیا تھا۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وادی میں مزاحمت کو روکنے کے لیے مکمل سیکیورٹی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی نظام معطل ہے جبکہ اب تک مقبوضہ وادی میں کم از کم 4 ہزار افراد، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں، کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔