مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن کے 16روز، 152 زخمی ہسپتال منتقل

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

5 اگست کے بعد سے اب تک وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں — تصویر: اے ایف پی
5 اگست کے بعد سے اب تک وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں — تصویر: اے ایف پی

مقبوضہ کشمیر کے 2 بڑے ہسپتالوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ کے دوران بھارتی فورسز کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے شیل سے زخمی ہونے والے 152 افراد علاج کے لیے ہسپتال لائے گئے۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے متنازع فیصلے کے پیشِ نظر نئی دہلی نے بڑے پیمانے پر مظاہرے روکنے کے لیے وادی میں اضافی پیراملٹری پولیس تعینات، عوامی اجتماعات اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

اس کے باوجود نوجوان جمعے کی نماز اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجاٍ سیکیورٹی پر پتھر برسائے جس پر بھارتی فورسز کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود بھارت مخالف مظاہرے

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سری نگر کے شیرِ کشمیر انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز اور شری مہاراج ہری سنگھ ہسپتال میں 5 اگست سے لے کر 21 اگست کے دوران 152 زخمیوں کو علاج کے لیے لایا گیا۔

مذکورہ افراد پیلٹ گنز کے شاٹ اور آنسو گیس کے شیل لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔

تاہم حکومت کی جانب سے ان چند مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی گئی البتہ ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی وادی میں اس ماہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

خیال رہے کہ 1989 سے مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جاری جدوجہد کے دوران اب تک 50 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں 4 ہزار شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، بھارتی مجسٹریٹ

تاہم اس حوالے سے مقامی حکومت کے ایک نمائندے کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی تعداد ان 2 ہسپتالوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی اس فہرست میں ان افراد کے نام درج نہیں جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے کچھ گھنٹوں کے بعد ڈسچارج کردیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں دیگر چھوٹے ہسپتالوں میں علاج کے لیے لائے گئے زخمیوں کی تعداد نہیں شامل کی جاسکی۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے متنازع علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وادی میں مزاحمت کو روکنے کے لیے مکمل سیکیورٹی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی نظام معطل ہے جبکہ اب تک مقبوضہ وادی میں کم از کم 4 ہزار افراد، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں، کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ ہے، عالمی ادارے کی وارننگ

یہ کریک ڈاؤن بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ وادی کی نیم خودمختار حیثیت ختم کرنے اور اسے 2 حصوں میں تقسیم کرنے سے کچھ لمحوں پہلے شروع کیا گیا۔

اس سلسلے میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی بھارتی فوجی مقبوضہ وادی میں مرکزی چیک پوائنٹس پر بھیجے گئے جبکہ یہ علاقہ پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا عسکری زون ہے، اس کے ساتھ ساتھ وادی کے 70 لاکھ لوگوں کے لیے لینڈ لائن رابطہ، موبائل فون، بروڈبینڈ انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی سروسز کو بھی معطل کردیا گیا۔