’نواز شریف توبہ کرلیں اور آدھا پیسہ دے دیں تو رہائی کی ضمانت دے سکتا ہوں‘

اپ ڈیٹ 25 اگست 2019

ای میل

وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ مودی نے سیکولر بھارت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی — فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ مودی نے سیکولر بھارت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی — فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف توبہ کرلیں اور اپنے ’کمائے‘ ہوئے پیسوں میں سے آدھی رقم واپس کردیں تو وہ ان کی رہائی کی ضمانت لینے کے لیے تیار ہیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا مسئلہ ہی ایسا ہے کہ وہ توبہ نہیں کرتے۔

سابق وزیراعظم کی رہائی سے متعلق سوال کے جواب میں اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف توبہ کرلیں اور جتنا ’کمایا‘ ہے اس کی آدھی رقم ہی لوٹا دیں تو میں ان کی رہائی کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہوں۔

ملک کی سیاسی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا کہ ’کیا حالت جنگ میں چھوڑ دیا جائے اور انہیں واپس ملک لوٹنے کی اجازت دے دی جائے؟‘

مزید پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید، فلیگ شپ ریفرنس میں بری

ملک میں جاری احتساب سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کا ہی ہو رہا ہے کیونکہ یہ لوگ تو ’بغیر مال بنائے‘ ہی اندر جارہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے حکومت کے ساتھ اتحادی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان والے ہمارے ساتھ ضرور بیٹھے ہیں لیکن وہ بانی متحدہ کے نظریے کے ساتھ نہیں۔

’سابق آرمی چیف کے ساتھ مل کر 2008 میں مسلم لیگ (ق) کو جتوانے کا منصوبہ بنایا‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وزیراعظم عمران خان کی حکومت سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی پارٹی کا تسلسل ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر یہ اس کا تسلسل ہوتا تو پارٹی اس میں ضم ہوجاتی، لیکن میں تو کسی جماعت کا حصہ ہی نہیں رہا میں نے تو بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہوا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ 2008 میں انہوں نے استعفیٰ اس لیے دیا کیونکہ وہ اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی نے مسلم لیگ (ق) کو جتوانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اس فیصلے کو بعد میں واپس بھی لے لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی کابینہ میں آدھے سے زیادہ ’میرے لوگ‘ ہیں، پرویز مشرف

خیال رہے کہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی نومبر 2007 میں آرمی چیف بننے سے قبل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) تھے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیاب کروانے کا منصوبہ بنایا گیا اور آرمی چیف نے مجھے نامزد کیا جبکہ مسلم لیگ (ق) کی پیپلز پارٹی کے ساتھ ڈیل بھی، انہوں نے ہی کروائی تھی جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو کامیاب ملی۔

تاہم انہوں نے ساتھ ساتھ یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو منصوبے سے کچھ زیادہ نشستیں ملیں۔

’مودی نے سیکیولر بھارت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی‘

کشمیر کے معاملے پر تذکرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ اگر میں بطور تاریخ کا طلبہ تجزیہ کروں تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیر کی قانونی حیثیت ختم کرنے سے قبل ہی شکست کھاگئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مودی نے یہ اقدام اٹھا کر قائد اعظم محمد علی جناح کے بیانیے کو درست ثابت کردیا جبکہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی نظم کے مطابق ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ کی اس سیکولرزم کی دھجیاں اڑادیں۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

وزیرداخلہ نے کہا کہ مودی نے سیکیولر بھارت کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی مسئلہ آج تک طاقت کے ذریعے حل نہیں ہوا، جو بھی مسائل حل ہوئے ہیں اور مذاکرات کی میز پر ہی ہوئے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ مقبوضہ وادی سے کرفیو ختم ہونے کے بعد لوگوں کا رد عمل آئے گا لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ وادی میں احتجاج شروع ہوچکا ہے۔

’بھارتی اقدام پر پاکستان کے فوری ردعمل کا سہرا وزیراعظم، وزیر خارجہ کے سر ہے‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد فوری رد عمل دیتے ہوئے عالمی طاقتوں سے رابطے کیے اور مسئلہ کشمیر کو دنیا میں پہنچایا جس کا تمام تر سہرا وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ اب وہ وقت نہیں جب جنگیں فوجیں لڑا کرتی تھیں، اب جنگیں قومیں لڑا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے معاملے پر جو اقدامات اٹھائے ہیں ان کی وجہ سے بھارت دنیا میں تنہا ہوگیا ہے، سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر بات چیت ہونا ہی پاکستان کی بڑی کامیابی ہے اور اس سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ کشمیر اب عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا تاریخی اجلاس

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں دنیا کو بتانا پڑے گا کہ انہوں نے کیا کیا ہے اور ہم نے کیا کیا ہے۔

بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستانی موقف پر اندرونی طور پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گرد ریاست کہنے کے بھارتی پروپگینڈے میں کافی حد تک تبدیلی آئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک جبکہ بھارتی ایک دہشت گرد ملک ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’اِدھر کا کشمیر اِدھر اور اُدھر کا کشمیر اُدھر‘ کا کوئی تصور نہیں ہے، یہ ہماری شہ رگ ہے، ہمیں اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنا ہے۔

’یو اے ای کے مؤقف پر کچھ نہیں کہہ سکتا‘

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر بیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ حکومتی اعزاز سے نوازے جانے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعجاز شاہ نے کہا کہ یہ ان کی اپنی پالیسی ہے جس پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ چاہے یو اے ای کے حکمران کشمیر کے ساتھ ہوں یا نہ ہوں لیکن وہاں کے عوام کشمیری عوام کے ساتھ ہیں۔

’رانا ثنا اللہ کے خلاف ثبوت موجود ہیں‘

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کی گرفتاری سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ انہیں گرفتار کرنے والا اینٹی نارکوٹکس کا ادارہ ایک جنرل کی کمانڈ میں کام کرتا ہے، جس کا اپنا وزیر ہوتا ہے تو کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ بغیر ثبوت لیگی رہنما کو گرفتار کرلیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف ثبوت موجود ہیں، جب ان کے خلاف کیس چلے گا تو سب ہی متعلقہ شواہد کو دیکھیں گے۔

مزید پڑھیں: رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت پر 'اے این ایف' کو 28 اگست کیلئے نوٹس

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایسی صورتحال میں کس طرح ایک شخص اپنی گاڑی میں منشیات لے کر جاسکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جب قانون کی بالادستی ختم ہوجاتی ہے تو فطری بالادستی سامنے آجاتی ہے اور پھر جب پیسہ، غرور اور تکبر آجائے تو انسان سامنے کنویں کو دیکھ کر بھی چھلانگ لگادیتا ہے۔

’عرفان صدیقی کی گرفتاری میں میرا کوئی ہاتھ نہیں، انہیں میں نے چھڑوایا‘

انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی کی گرفتاری میں اپنے کردار سے متعلق تمام افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میرے احکامات پر گرفتار ہونے والا شخص باہر آجائے تو مجھے پکڑ لیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اعجاز شاہ نے کہا کہ عرفان صدیقی کے کیس کو مس ہینڈل کیا گیا تاہم میں نے سابق وزیراعظم کے مشیر کو چھڑوایا ہے۔

’دھرنا دینے والوں کو کنٹینرز اور پانی فراہم کریں گے‘

ایک سوال کے جواب میں بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ جو قانون کے مطابق دھرنے دیں گے انہیں کنٹینرز دیں گے اور پانی بھی فراہم کریں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ڈی چوک پر تحریک انصاف کی طرح دھرنا دینا چاہیں تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے، 'یہ لوگ اپنی موت خود مرجائیں گے'۔

’اسکول کے بچوں کی قربانی نے سیاست دانوں کو جگایا‘

نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں اس طرح کا کوئی پلان نہیں تھا، تاہم آرمی پبلک اسکول کے بچوں نے قربانی دے کر سیاست دانوں کو جگایا اور این اے پی عمل میں لایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ این اے پی 4 سال تک سابق وزیراعظم کی ٹیبل پر موجود رہا، تاہم موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔