ملکہ برطانیہ نے پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی

اپ ڈیٹ 28 اگست 2019

ای میل

ماضی میں بورس جونسن نے پارلیمنٹ معطل کرنے سے انکار کیا تھا—فوٹو: رائٹرز
ماضی میں بورس جونسن نے پارلیمنٹ معطل کرنے سے انکار کیا تھا—فوٹو: رائٹرز

برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ دوم نے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر وزیراعظم بورس جونسن کی درخواست پر پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق ملکہ برطانیہ کی منظوری کے بعد ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پارلیمنٹ معطل کردی جائے گی اور 5 ہفتوں بعد ملکہ ایلزبتھ دوم 14 اکتوبر کو تقریر کریں گی۔

ادھر اپوزیشن رہنما جیریمی کوربن نے حکومتی فیصلے کو ’جمہوریت کے لیے خطرہ‘ قرار دیا اور ملکہ ایلزبتھ سے فوری اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی۔

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جونس نے پارلیمنٹ سے متعلق کہا کہ معطلی کا فیصلہ ضروری تھا کیونکہ ان کی حکومت کو آئندہ کا ’لائحہ عمل‘ تیار کرنا ہے۔

وزیراعظم بورس جونسن کی ملکہ ایلزبتھ دوم سے درخواست

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جونسن نے ملکہ ایلزبتھ دوم سے برطانوی پارلیمنٹ معطل کرنے کی درخواست کی تھی۔

بورس جونسن نے قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ’وہ ملکہ سے یہ درخواست کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں کہ ملکہ 14 اکتوبر کو اپنی تقریر میں حکومت کی قانون سازی کا ایجنڈا شامل کریں‘۔

مزیدپڑھیں: بورس جانسن برطانیہ کے نئے وزیراعظم منتخب

خیال رہے کہ ماضی میں بورس جونس پارلیمنٹ معطل کرنے کے حامی نہیں رہے۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ اگر تقریر سے قبل پارلیمنٹ معطل کردی جاتی ہے تو اس فیصلے کے نتیجے میں یہ ہوگا کہ اپوزیشن قانون سازوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوگا کہ وہ 30 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدگی کے خلاف قانون پاس کرسکیں۔

دوسری جانب بورس جونس کے فیصلے پر دارالعوام کے اسپیکر جون بیریکاؤ سمیت اپوزیشن کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

جون بیریکاؤ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو معطل کرنا جمہوری عمل اور عوام کے منتخب کردہ پارلیمانی نمائندگان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

مزیدپڑھیں: 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائیں گے

انہوں نے کہا کہ ’بطور وزیراعظم، بورس جونس کا یہ ابتدائی دور ہے، یقیناً ان کی کوشش استحکام پیدا کرنا ہوگا ناکہ جمہوری اقدار کی منافی اقدام یا پارلیمانی جمہوریت سے وعدہ خلافی کرنا‘۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ سے متعلق خبر کے بعد پاؤنڈ کی قدر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

یورپی یونین کی لاتعلقی

علاوہ ازیں یورپی یونین نے برطانوی حکومت کے فیصلے کے نتیجے میں جنم والی تنقید پر کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔

یورپی یونین کمیشن کی ترجمان مینا اینڈریویا نے کہا کہ ’یورپی یونین برطانیہ کے داخلی سیاسی عمل پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: یورپین یونین، برطانیہ کے بریگزیٹ ڈیڈلائن میں توسیع کیلئے تیار

انہوں نے واضح کیا کہ ’نہ ہی ہم اگلے مراحل سے متعلق کوئی پیشگوئی کریں گے‘۔

واضح رہے کہ یورپی یونین اور برطانیہ مذاکرات پر طاری جمود کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں، جس کے باعث برطانیہ معاہدے کے بغیر ہی 31 اکتور کو یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہوگا۔

یورپی یونین کی ترجمان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پیش کردہ کسی بھی آفر کا یورپی یونین جائزہ لے گا۔

بورس جونسن بطور وزیراعظم

واضح رہے کہ بورس جونسن نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ ’ ہم ملک کو متحرک کرنے جارہے ہیں، ہم 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائیں گے اور اس سلسلے میں ہم ایک تمام مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے‘۔

بورس جانسن نے کہا تھا کہ ہم بہتر تعلیم، بہتر انفراسٹرکچر، مزید پولیس کے ذریعے خود اعتمادی کے فقدان اور منفی تاثر کا خاتمہ کریں گے۔

مزیدپڑھیں: برطانیہ: بریگزٹ میں تاخیر کیلئے ووٹنگ ڈیلز مسترد ہونے سے مشروط

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حیرت انگیز ملک کو متحد کرنے جارہے ہیں اور ہم اسے مزید آگے لے کر جائیں گے۔

یاد رہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے 24 مئی کو انتہائی جذباتی انداز میں اعلان کیا تھا کہ وہ 7 جون کو وزیراعظم اور حکمراں جماعت کنزرویٹو اور یونینسٹ پارٹی کی رہنما کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی اور 7 جون کو انہوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔