پی ٹی اے نے کشمیر تنازع پر اکاؤنٹ معطلی کا معاملہ ٹوئٹر کے سامنے اٹھادیا

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2019

ای میل

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ 333 ہینڈلز کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے بات کرنے پر معطل کردیا گیا ہے۔ — فائل فوٹو/اے ایف پی
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ 333 ہینڈلز کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے بات کرنے پر معطل کردیا گیا ہے۔ — فائل فوٹو/اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے مقبوضہ کشمیر کے سے متعلقہ ٹوئٹر اکاؤنٹس کی معطلی اور ٹوئٹس کو روکے جانے کا معاملہ ٹوئٹر انتظامیہ کے سامنے اٹھادیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر ریگولیٹر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ کے صارفین سے بھی ان کے ٹوئٹس اور اکاؤنٹس معطل کرنے کی اپنی تشویش [email protected] پر درج کرانے کا کہا ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ 333 ہینڈلز کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے بات کرنے پر معطل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 منسوخ کردیا تھا، جس پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا اور عالمی سطح پر اس معاملے کو اٹھایا گیا۔

مزید پڑھیں: ٹوئٹر کا سینیٹر رحمٰن ملک کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق ٹوئٹ پر کارروائی سے انکار

ریگولیٹر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ پی ٹی اے نے پاکستانی ٹوئٹر صارفین کے ساتھ غیر جانبدارانہ سلوک کرنے پر ٹوئٹر انتظامیہ کے سامنے سخت الفاظ میں اپنی تشویش کا اظہار کیا اور پاکستانی سوشل میڈیا صارفین سے بھی کشمیر کے حق میں لکھنے والے معطل شدہ اکاؤنٹ کی رپورٹ پی ٹی اے کو کرنے کا کہا۔

پی ٹی اے کو پہلے ہی اس طرح کی 333 شکایتیں موصول ہوچکی ہیں جنہیں ٹوئٹر کو بحالی کے لیے بھیجا گیا تھا اور ان میں سے صرف 67 اکاؤنٹس کو اب تک ٹوئٹر نے بحال کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی حمایت میں بیان شائع کرنے پر بند کیے جانے والے پاکستانی اکاؤنٹس کا معاملہ اٹھایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر حامی اکاؤنٹس کی بندش: پاکستان نے معاملہ فیس بک، ٹوئٹر کے سامنے اٹھادیا

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ سماجی رابطے کی ان بڑی ویب سائٹس کے ریجنل ہیڈکوارٹرز میں زیادہ تر بھارتی کام کرتے ہیں اور یہی ان اکاؤنٹس کی بندش کی بڑی وجہ ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے انگریزی زبان کے اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے نمائندے کا اکاؤنٹ اس وقت بند کردیا گیا تھا جب انہوں نے بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا۔