استعفے کی ویڈیو وائرل ہونے پر خاتون پولیس اہلکار سے بازپرس

اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2019

ای میل

پولیس کانسٹیبل فائزہ کا خیال رکھے گی جبکہ ان کا مورال بھی بلند ہے—فائل فوٹو: ٹوئٹر
پولیس کانسٹیبل فائزہ کا خیال رکھے گی جبکہ ان کا مورال بھی بلند ہے—فائل فوٹو: ٹوئٹر

لاہور: وکیل کے تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بننے والی خاتون پولیس اہلکار کی جانب سے نوکری چھوڑنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت اور پولیس ایکشن میں آگئی اور مبینہ طور پر خاتون کو نوکری نہ چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کانسٹیبل فائزہ نواز نے اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ’میں اس نا انصافی اور ظالم نظام سے تنگ آچکی ہوں اس لیے اپنی نوکری سے استعفیٰ دے رہی ہوں‘۔

اس حوالے سے شیخوپورہ کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) غازی صلاح الدین نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر مذکورہ ویڈیو پیغام وائرل ہونے کے بعد انہوں نے خاتون اہلکار سے ملاقات کی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب وہ استعفیٰ نہیں دے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ: تشدد کا نشانہ بننے والی لیڈی کانسٹیبل کا استعفیٰ دینےکا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ انٹرویو لینے والے نے ویڈیو میں خاتون کا بیان توڑ مروڑ کے پیش کیا اور وہ باکل بھی مایوس نہیں، ان مزید کہنا تھا کہ پولیس کانسٹیبل فائزہ کا خیال رکھے گی جبکہ ان کا مورال بھی بلند ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گل کا بھی کہنا تھا کہ فائزہ نواز استعفیٰ نہیں دے رہیں اس کے علاوہ انہوں نے ایف آئی آر میں ایک معمولی غلطی کی وجہ سے فیروز والہ کے جج کی جانب سے ملزم کی ضمانت منظور کیے جانے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خاتون کانسٹیبل نے اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے بعد ایک تازہ ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

واضح رہے کہ ملزم ایڈوکیٹ احمد مختار نے فیروزوالہ عدالت میں کانسٹیبل فائزہ کو اس وقت تھپڑ مارا تھا جب انہوں نے مذکورہ وکیل کو نو پارکنگ کی جگہ پر گاڑی کھڑی کرنے سے منع کیا۔

مزید پڑھیں: لیڈی پولیس کانسٹیبل نے ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کی کہانی جھوٹی قرار دے دی

یہ سن کر وکیل آپے سے باہر ہوگئے اور خاتون پولیس اہلکار کی پنڈلی پر لات ماری انہیں برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ منہ پر تمانچہ بھی مارا۔

بعد ازاں بدسلوکی کرنے والے وکیل کو گرفتار کر کے مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا لیکن ایف آئی آر میں ملزم کو نام احمد مختار کی جگہ احمد افتخار لکھے ہونے کے سبب اسے چھوڑ دیا گیا۔

شہباز گل کے مطابق ایف آئی آر میں دیگر 3 سزاؤں کے ساتھ ملزم کا نام درست لکھا ہوا تھا اس کے باوجود جج نے اس کی ضمانت منظور کی۔