امریکا سے مذاکرات معطل، طالبان وفد روس پہنچ گیا

14 ستمبر 2019

ای میل

عسکرت پسند اس لڑائی کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں—فائل فوٹو: اے پی
عسکرت پسند اس لڑائی کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں—فائل فوٹو: اے پی

امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات ختم ہونے کے بعد افغان عسکریت پسندوں کے ایک وفد نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں روسی حکام سے ملاقات کی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ’صدر ولادی میر پیوٹن کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زمیر کابلوف نے طالبان وفد کی میزبانی کی‘، تاہم روسی وزارت خارجہ نے مذاکرات کی کوئی تاریخ فراہم نہیں کی۔

ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’روسی حکام نے امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا‘۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطر میں موجود ایک سینئر طالبان رہنما نے کہا کہ ّ اس دورے کا مقصد دیگر ممالک کے رہنماوں کو امن مذاکرات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب بات چیت ختم کرنے کے فیصلے سے آگاہ کرنا ہے جبکہ دونوں فریقین کے مابین تمام مسائل حل کرلیے گئے تھے اور معاہدہ ہونے کے قریب تھےٗ

یہ بھی پڑھیں: افغان امن مذاکرات معطل: طالبان کی امریکا کو سخت نتائج کی دھمکی

روسی ترجمان کے مطابق طالبان نے اپنی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ مزید بات چیت کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا‘۔

ایک اور طالبان رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دورے کا مقصد امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش نہیں بلکہ امریکا کو افغانستان سے انخلا پر مجبور کرنے کے لیے علاقائی حمایت کا جائزہ لینا ہےٗ۔

قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے امریکی اور طالبان نمائندوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک طریقہ کار پر اتفاق کیا جسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔

اگر یہ معاہدہ ہوجاتا ہے تو ممکنہ طور پر امریکا افغانستان سے اپنے فوجیوں کو بتدریج واپس بلانے کا لائحہ عمل طے کرتا جبکہ طالبان کی جانب سے یہ ضمانت شامل ہوتی کہ افغانستان مستقبل میں کسی دوسرے عسکریت پسند گرہوں کے لیے پناہ گاہ نہیں ہوگا،

تاہم گزشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کردیا تھا کہ انہوں نے سینئر طالبان قیادت اور افغان صدر اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کی دعوت دی تھی تاہم آخری لمحات میں انہوں نے طالبان کے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت پر یہ مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

مزید پڑھیں: افغان امن عمل: طالبان سے مذاکرات ختم ہو چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

خیال رہے کہ افغانستان میں اب بھی 13 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 سال قبل 11 ستمبر کے حملوں کے بعد شروع کی جانے والی جنگ کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم اب مذاکرات منسوخ ہونے کے بعد 28 ستمبر کو افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے پیشِ نظر پر تشدد کارروائیوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

واضح رہے کہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان میں 3 مرتبہ صدارتی انتخابات ہوچکے ہیں اور حالیہ چوتھے انتخابات پہلے اس سال 2 مرتبہ ملتوی کیے جاچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان صدارتی انتخاب میں دوسری مرتبہ تاخیر کا اعلان

دوسری جانب پورے ملک میں افغان فورسز اور طالبان کے مابین مسلسل جھڑپیں جاری ہیں اور عسکرت پسند اس لڑائی کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس سے قبل بھی روس نے افغان امن عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہوئے ماسکو میں افغان سیاسی رہنماؤں کے ساتھ 2 اجلاس منعقد کیے تھے۔