مسئلہ کشمیر اور پاگل پن

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2019

ای میل

سوشل میڈیا پر آج کل 'لال ٹوپی' والے زید حامد کی وڈیو گردش کر رہی ہے۔ بڑی عمدگی سے سر پر ایک طرف کو جھکی سرخ ٹوپی سجائے اور ہاتھوں میں رائفل تھامے وہ ناظرین کی بھرپور انداز میں حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ عنقریب بھارت کے خلاف جنگ میں ہماری مسلح افواج سے کندھے سے کندھا ملانے کے لیے تیارہوجائیں۔

اگرچہ مستقبل کے یہ جنگجو کافی غیر سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں مگر یہ دائیں جانب کے ایک چھوٹے لیکن نمایاں حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے بھی وردی اور بغیر وردی والے پائے جاتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر حاصل کرنے کا واحد آپشن جنگ ہے۔

آئنسٹائن نے ایک بار کہا تھا کہ، ’پاگل پن کی تعریف یہ ہے کہ بار بار ایک ہی کام کیا جائے لیکن ہر بار مختلف نتیجے کی توقع کی جائے۔‘ ہم تین بار بزور بازو کشمیر حاصل کرنے کی کوشش کرچکے ہیں اور ہر بار ناکام رہے۔ اب جبکہ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان خلیج اپنے عروج پر ہے ایسے میں مسلح جھگڑے کی حمایت کرنے والوں کو تاریخ کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔

خوش قسمتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمران جوڑی (ruling duopoly) اس بات کو سمجھتی ہے۔ عمران خان اور ان کے وزیر خارجہ کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ جنگ آپشن نہیں اور آرمی چیف عملیت پسند انسان ہیں جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔

مجھے غلط مت سمجھ لیجیے گا، میں کشمیریوں پر طویل غاصبانہ اور دردناک قبضے کا مخالف ہوں اور میرا ماننا ہے کہ بھارتی حکومت کو 1987ء کے وہ انتخابات ہرگز چرانے نہیں چاہیے تھے جس کے باعث وادی میں تشدد کے ایک طویل سلسلے کو ہوا ملی۔ مگر ہمیں ان باتوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور کسی نہ کسی طرح بھارت اور دنیا کو آمادہ کرنا ہوگا کہ کشمیری کسی طور پر بھی دنیا سے منقطع اور محصور رکھے جانے کے مسحق نہیں۔

اس تنازع میں ایک مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ بھارتی قبضے کے خلاف گروہوں کے درمیان مختلف مؤقف پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا ماننا ہے کہ کشمیر کو پاکستان میں ضم کردینا چاہیے، پھر کچھ ایسے بھی افراد ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کو دونوں حریف ملکوں سے آزادی دلوائی جائے۔ ان کے علاوہ کچھ ایسے اسلامی گروہ بھی پائے جاتے ہیں جو زیادہ سیکولر تنظیموں کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی حمایت پاکستان کے حامی مذہبی گروہوں کو حاصل ہوگی، تاہم ایسا ضروری نہیں کہ یہ گروہ بھارتی قبضے کے مخالف تمام گروہوں کی نمائندگی کرتے ہوں۔

تو جناب اب ہم ایسے موڑ پر آگئے ہیں جہاں ہم کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں کہ بھارت کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کی قیمت ادا کرنی پڑجائے۔ ایک طرح سے بھارت نے دنیا کی توجہ اپنی استحصالی پالیسیوں کی طرف مبذول کرواکر ہمارا کام مزید آسان بنا دیا ہے۔ تاہم عالمی رائے کی زندگی طویل نہیں ہوتی اور بھارت ایک بڑی منڈی ہونے کے علاوہ سوفٹ پاور بھی رکھتا ہے۔ یہ تصور کرنا خیالی پلاؤ پکانے کے برابر ہے کہ غیر ملکی اخلاقی اصولوں کی خاطر ذاتی مفادات قربان کردیں گے۔

دور دراز کے ملکوں کو چھوڑیے جن کا ہم سے کچھ خاص تعلق نہیں، لیکن ہمارے مسلمان دوستوں کی جانب سے کشمیر تنازع پر حمایت سے انکار حقیقی دنیا کی یاد دہانی سے کم تھوڑی نا ہے۔ اس دھچکے کے باوجود سیاستدان اور پنڈت اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ لابی کرکے ہم کسی نہ کسی طرح ان طاقتور عالمی کھلاڑیوں کی حمایت حاصل کرلیں گے جو بھارت کو آنکھیں دکھا سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں طویل عرصے سے ہماری نمائندگی کرنے والی ملیحہ لودھی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر عالمی مداخلت کے ذریعے حل نہ ہوا تو ’ایک بہت بڑا بحران‘ پیدا ہوسکتا ہے۔ وہ آخر کہنا کیا چاہ رہی تھیں؟ کچھ ایسے خام اشارے ملے ہیں کہ مسلح تنازع جلد ایٹمی تباہی میں بدل سکتا ہے۔ بھارت کو کشمیر تنازع کا کوئی سیاسی حل ڈھونڈے پر مائل کرنے کی خاطر عالمی توجہ تنازع پر مبذول کروانے کا یہ ایک بڑا ہی غیر مناسب طریقہ ہے۔

تاہم بھارت یہ کہہ بیٹھا ہے کہ وہ کسی کی جانب سے کسی بھی قسم کی ثالث کاری قبول نہیں کرے گا۔ چونکہ بھارت کشمیر کو ایک متنازع علاقے کے طور پر نہیں دیکھتا اس لیے اس کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقے کی آئینی حیثیت بدلنے کا حق رکھتا ہے۔ ہم پاکستانی بلاشبہ اس مؤقف سے اتفاق نہیں رکھتے لیکن باقی دنیا دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کو عدم مداخلت کے عظیم اصول کے منافی سمجھتی ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے 70 سالہ پرانی اقوام متحدہ کی قرارداد کافی حد تک فوری اہمیت کھو چکی ہے۔ اگرچہ دونوں ملک قرارداد پر عمل کے پابند تو نہیں ہیں لیکن اس کے مطابق پاکستان کو کہا گیا کہ وہ ان 'قبائلی افراد اور پاکستانی شہریت رکھنے والوں کو وادی سے نکلوائے جو کشمیر کے رہائشی نہیں ہیں لیکن لڑائی کے مقصد سے یہاں آئے، جبکہ بھارت کو کہا گیا کہ وہ وادی میں اپنی فوجی تعیناتی محدود تر کردے۔ ان اقدامات سے استصوابِ رائے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا اور کشمیری اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے۔ تاہم دونوں ملک اپنے اپنے مؤقف پر اڑے رہے۔ یوں استصوابِ رائے کا عمل کبھی ہو ہی نہیں پایا۔

یہ تو رہی تاریخ کی بات۔ اچھا تاریخ کو تو دوبارہ لکھا جاسکتا ہے لیکن جغرافیہ میں رد و بدل ہرگز ممکن نہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں برصغیر کا حصہ ہیں۔ ہماری ندیاں مقبوضہ کشمیر سے گزرتی ہیں، اور آلودگی سرحدیں نہیں جانتی۔ اگرچہ ہم نے بھارتی ہوائی جہازوں اور ٹرکوں کے لیے فضائی اور زمینی آمدو رفت بند کردی ہے، مگر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فوری جذباتی رد عمل جتنی بھارت کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اتنی ہے بُرے ہمارے لیے بھی ثابت ہوتے ہیں۔

بھارتی صدر کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دینا اور وزیر سائنس کا بھارتی چاند گاڑی کی مہم کی ناکامی پر مذاق اڑانا چھوٹے پن کا مظاہرہ ہے۔ موجودہ حالات میں بھارت اور پاکستان میں بالغ سوچ کی بڑی ہی قلت دکھائی دیتی ہے۔

دونوں ملکوں کے سربراہان کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ہر ایک حقیقت سے واقف کریں اور عامیانہ و سطحی سوچ نہ اپنائیں۔ یہاں میں یہ ضرور کہوں گا کہ اس معاملے میں بھارتی وزیر اعظم اپنے زہریلی و فساد انگیز بیان بازی کے ساتھ ناخوشگواریت پھیلانے کی ریس میں کافی زیادہ آگے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ مضمون 14 ستمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع۔