آخر مجھے ہر وقت تھکاوٹ کیوں رہتی ہے؟

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

ہر وقت تھکاوٹ کا احساس بہت زیادہ عام عارضہ ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
ہر وقت تھکاوٹ کا احساس بہت زیادہ عام عارضہ ہے — شٹر اسٹاک فوٹو

اکثر تھکاوٹ کا احساس ہونا بہت زیادہ عام ہوتا ہے، درحقیقت ایک تہائی صحت مند نوجوانوں، درمیانی عمر یا بوڑھے افراد ہر وقت غنودگی یا تھکن کے احساس کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔

ہر وقت تھکاوٹ مختلف امراض کی عام علامت بھی ہوتی ہے مگر زیادہ تر اس کی وجہ طرز زندگی کے عام عناصر ہوتے ہیں۔

یعنی جیسے یہ تو سب کو معلوم ہے کہ نیند ہماری صحت کے لیے بہت اہم ہے مگر کئی بار مناسب وقت تک سونا مشکل ہوجاتا ہے۔

اگر آپ اکثر شکایت کرتے ہیں 'آخر مجھے ہر وقت تھکاوٹ کیوں رہتی ہے؟' تو آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کے پیچھے کیا وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ہر وقت تھکاوٹ کی وجوہات

نیند پوری نہ کرنا

ہوسکتا ہے کہ آپ پہلے سے ہی یہ جانتے ہوں، مگر اسے نظرانداز کردینا آسان ہوتا ہے مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بیشتر افراد کو 7 سے 9 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے مگر اب بیشتر افراد اس سے کم وقت سونے کے عادی ہوتے جارہے ہیں، جس کا نتیجہ جسمانی تھکاوٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔

ورزش سے دوری اور صحت بخش غذا کا استعمال نہ کرنا

ایک کے بعد ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جسمانی سرگرمیاں گہری نیند کے معیار بڑھاتی ہیں، اسی طرح تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ پھلوں، سبزیوں، کم پروٹین اور دودھ سے بنی مصنوعات پر مبنی غذا کا استعمال اچھی نیند کے حصول میں مدد دیتا ہے، مگر سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا ناقص نیند کا باعث بنتا ہے اور نیند کی کمی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے، اس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ اگر آپ ورزش کریں اور صحت بخش غذا کا استعمال کریں تو صحت مند زندگی گزارنا ممکن ہوجاتا ہے۔

ادویات

بیشتر ادویات کے استعمال سے غنودگی کا احساس ایک عام سائیڈ ایفیکٹ ہے، خصوصاً ٹرائی سائیکل antidepressants، بلڈ پریشر اور الرجی کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے استعمال پر ایسا احساس ہوتا ہے۔

دوپہر یا آدھی رات کا وقت

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کیا آپ کو معلوم ہے کہ لوگوں میں قدرتی طور پر رات گئے 2 سے 4 بجے کے درمیان اور دوپہر میں 2 بجے کے بعد جسمانی توانائی میں کمی آتی ہے؟ اگر رات کو 2 سے 4 بجے کے درمیان تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے تو وہ زیادہ قابل غور نہیں ہوتا مگر بیشتر افراد کو یہ علم نہیں کہ دوپہر میں وہ غنودگی کیوں محسوس کرتے ہیں، اکثر افراد اسے دوپہر کے کھانے کے بعد کا اثر قرار دیتے ہیں، مگر طبی ماہرین کے مطابق یہ صرف غذا کا اثر نہیں، یہ جسمانی گھڑی کا اثر ہے، جسم کے ہر خلیے میں ایک چھوٹی مالیکیولر گھڑی ہوتی ہے، جو ایک ردہم میں چلتی ہے۔

نیند کے امراض

ایسا ممکن ہے کہ رات کو آپ کی نیند جسم کو آرام نہ پہنچا رہی ہو جس کی وجہ کوئی عارضہ جیسے سلیپ اپنیا ہوسکتا ہے، اگر آپ کی تھکاوٹ اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں آپ کسی بھی وقت سو جاتے ہیں، چاہے کسی سے بات کررہے ہوں یا گاڑی چلارہے ہوں، تو یہ narcolepsy (ایسا مرض جس میں بار بار نیم خوابی کی کیفیت طاری ہوتی ہے) عارضہ ہوسکتا ہے۔ اگر آپ دن میں تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں کیونکہ رات کو بستر پر کروٹیں بدلتے رہے ہوں، تو یہ بے خوابی کی نشانی ہوسکتی ہے۔ ان تمام امراض پر آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

امراض

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ویسے فکرمند مت ہوں، ہر وقت تھکاوٹ کا کینسر سے تعلق نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے مگر یہ کچھ دیگر امراض کا باعث ضرور ہوسکتی ہے۔ پورا دن تھکاوٹ کا احساس اکثر اوقات ڈپریشن کی علامت ہوتی ہے، تھائی رائیڈ کے امراض بھی لوگوں میں تھکاوٹ کا احساس بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح دماغی تنزلی کی کیفیات میں دماغ کے مخصوص حصے تنزلی کا شکار ہوتے ہیں تو دماغ کے اس حصے جو نیند کو کنٹرول کرتے ہیں، میں تنزلی کے نتیجے میں غنودگی طاری رہنا اکثر کسی مرض جیسے پارکنسن امراض کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

تھکاوٹ کے احساس کی روک تھام کیسے کریں؟

زیادہ نیند

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سب سے پہلے تو آپ کو اپنے نیند کے معمولات ہی بہتر بنانے چاہیے کیونکہ اس کے بغیر تھکاوٹ کے احساس سے نجات پانا ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وہ عام عادتیں جو اچھی نیند سے محروم کردیں

سونے کی جگہ آرام دہ بنائیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

نیشنل سلیپ فاﺅنڈیشن کے مطابق سونے کے کمرے میں کمپیوٹر، فونز اور دیگر ڈیوائسز جسم میں میلاٹونین نامی ہارمون کے اخراج میں رکاوٹ بنتے ہیں، یہ ہارمون نیند کو متحرک کرتا ہے اور اس کی کمی سے نہ صرف دماغ اور جسم زیادہ الرٹ ہوتے ہیں، بلکہ انتہائی گہری نیند کا عمل بھی تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔

زیادہ ورزش اور متوازن غذا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ان دونوں پر توجہ دینے کی ضرورت کیوں ہے وہ آپ پہلے ہی اوپر پڑھ چکے ہیں۔

ڈاکٹر سے ادویات پر مشورہ کریں

اگر آپ ایسی ادویات استعمال کررہے ہیں جن کو کھانے کے بعد غنودگی کا احساس طاری رہتا ہے تو اس پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں جو ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسری دوا تجویز کردے، مقدار تبدیل کرے یا کوئی بہتر تجویز دے سکے۔

چائے یا کافی

تھکاوٹ کے احساس کو دبانے کے لیے یہ گرم مشروبات مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، دن بھر میں کچھ کپ چائے کا یاکفی کا استعمال کسی حد تک دماغ اور جسم کو الرٹ کردیتے ہیں، مگر اس کی ایک حد ہے، کیونکہ کیفین نیند کی کمی پوری نہیں کرسکتی۔

زیادہ دیر بیٹھنے سے گریز

اگر آپ کو اکثر تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے تو بہتر ہے کہ زیادہ وقت بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہونے کو عادت بنالیں۔ کھڑے رہنا جسم کو چاق و چوبند بنانے کے چند اہم ترین ذرائع میں سے ایک ہے، جسم کا انداز تھکاوٹ پر بہت زیادہ اثر مرتب کرتا ہے۔