وہ عام عادتیں جو اچھی نیند سے محروم کردیں

25 مارچ 2019

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دیوار پر لگی گھڑی کی طرح ہمارے جسم کے اندر موجود خلیات کی بھی اپنی 24 گھنٹے کی ٹائم لائن ہوتی ہے، اگر وہ ایک ترتیب میں ہو تو ہماری جسمانی گھڑی ذہنی اور جسمانی امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اور ہماری نیند کا اس حوالے سے بہت اہم کردار ہوتا ہے جو جسمانی گھڑی کو فعال رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

مگر صرف ایک رات کی خراب نیند مختلف امراض کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔

تاہم نیند کی کمی صرف آپ کے کام یا مصروف شیڈول کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ کچھ عادات ایسی ہوتی ہیں جو اچھی نیند کو متاثر کرتی ہیں اور حیران کن طور پر یہ ایسی عادتیں ہیں جن سے بچنا بہت آسان ہے یا لوگ انہیں نقصان دہ نہیں سمجھتے۔

یہاں آپ ان عادات کو جان سکیں گے جو نیند کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

سونے سے قبل اسکرین کا استعمال

یہ ایسی عادت ہے جو آج کے نوجوانوں میں بہت عام ہے یعنی سونے کے لیے لیٹنے کے بعد اسمارٹ فون، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ کا استعمال، مگر اس کے نتیجے میں جسمانی گھڑی کا نظام متاثر ہوتا ہے جو کہ نیند کے سائیکل کو ریگولیٹ کرتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق سونے سے قبل فون یا کسی ڈیوائس کی اسکرین کو دیکھنے سے پتلیاں تیز روشنی سے متاثر ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں نیند میں مدد دینے والے ہارمون میلاٹونین بننے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، بہتر یہ ہے کہ سونے سے آدھے گھنٹے قبل اسکرینوں کو خود سے دور کردیں۔

سونے کا کوئی معمول نہ ہونا

جب آپ کے سونے کا کوئی وقت یا معمول طے نہ ہو تو اس سے بھی جسمانی گھڑی کی ترتیب بدلتی ہے اور جسم وائرل انفیکشن یا ڈپریشن کا آسانی سے شکار ہونے لگتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سونے کے وقت میں تسلسل ہونا چاہئے جو کہ جسمانی گھڑی کے چکر کے لیے ضروری ہے، مگر روزانہ سونے کا وقت بدلنا اس چکر کو متاثر کرکے نیند کے معیار کو ناقص کرتا ہے، آسان الفاظ میں روزانہ سونے کا ایک وقت ہو اور صبح اٹھنے کا بھی ایک وقت مقرر ہو۔

سونے کے کمرے میں بے ترتیبی

ہوسکتا ہے کہ یہ جان کر حیران ہو کہ جس کمرے میں آپ سوتے ہیں، وہ بھی اچھی نیند کے حصول میں رکاوٹ بن سکتا ہے مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بستر کے ارگرد بے ترتیبی یا سامان کا بکھرا ہونا دماغ کو بھٹکاتا ہے جس سے سونا مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : رات کو کتنی نیند صحت کے لیے ضروری ہے؟

سونے سے کچھ دیر پہلے ورزش

اگرچہ ورزش سونے کے معمولات میں مدد دیتی ہے مگر اسے سونے سے کچھ دیر پہلے کرنا مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سونے کے وقت سے 2 سے 3 گھنٹے پہلے ورزش کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ دماغ کو متحرک کرتی ہے، مگر روزانہ ورزش ضرور کریں چاہے 20 منٹ کی چہل قدمی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ وہ سونے میں مدد دیتی ہے۔

سونے سے کچھ دیر قبل کھانا

سونے سے کم از کم 3 سے 4 گھنٹے پہلے کھانا تناول کرنے سے گریز کرنا چاہئے، طبی ماہرین کے مطابق سونے کے وقت سے کچھ دیر پہلے کھانا بھی نیند کو متاثر کرسکتا ہے، کیونکہ کھانے کے بعد معدے میں تیزابیت حرکت میں آتی ہے اور اس دوران سونے کے لیے لیٹنے سے وہ تیزابی اثرات گلے میں محسوس ہونے لگتے ہیں، جس سے نیند اڑ جاتی ہے۔

بہت تاخیر سے سونے کے لیے لیٹنا

مثالی عمل تو یہ ہے کہ تاریکی چھانے کے بعد سویا جائے اور سورج طلوع ہونے پر جاگ جائیں، مگر رات گئے سونا صحت پر منفی انداز سے اثرانداز ہوتا ہے۔ جسمانی گھڑی روشنی اور تاریکی کو اپنے سائیکل کے لیے استعمال کرتی ہے، مگر جب تاریکی کو نظرانداز کیا جائے تو جسم کے اس قدرتی ردہم کو نقصان پہنچتا ہے، طبی ماہرین کے مطابق رات 8 بجے سونا اور صبح 5 بجے اٹھنا موثر ترین ٹائم فریم ہے مگر ایسا ممکن نہ ہو تو 12 بجے تک ضرور سوجائیں۔

نیند کی کمی تعطیل پر پوری کرنے کی عادت

اکثر افراد پورے ہفتے نیند پوری نہیں کرپاتے اور وہ اس کی کمی ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ عادت صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند نہیں بلکہ جسم کے نیند کے چکر کے تباہ کن ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اگر آپ اتوار کو بستر پر دوپہر تک لیٹے رہتے ہیں تو اس رات کو بستر پر کروٹیں بدلتے رہیں گے۔

سونے سے بالکل پہلے دانت صاف کرنا

یقیناً رات کو دانتوں پر برش کرنا چاہئے مگر یہ کام سونے سے چند منٹ پہلے کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے دماغ پر چھائی غنودگی دور ہوجاتی ہے جبکہ ٹوتھ پیسٹ میں موجود پودینے کا ذائقہ بھی اس احساس کو بڑھا دیتا ہے، تو سونے سے ایک یا آدھا گھنٹہ پہلے یہ کام کرنا بہتر ہوتا ہے۔

درد کش ادویات کا استعمال

یہ حیران کن نہیں کہ درد نیند کو مشکل بنادیتا ہے مگر اسے دبانے کے لیے سونے سے کچھ دیر قبل دردکش گولیاں نگل لینا بھی کوئی اچھی حکمت عملی نہیں کیونکہ اس سے نیند کا معیار خراب ہوتا ہے۔