’نیب، نیپرا ماہرین کے مورال کو نقصان پہنچا رہا ہے‘

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2019

ای میل

دسمبر 2018 تک 10 کھرب سے زائد گردشی قرضوں کے سبب شعبہ توانائی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گیا تھا —فائل فوٹو: اے ایف پی
دسمبر 2018 تک 10 کھرب سے زائد گردشی قرضوں کے سبب شعبہ توانائی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گیا تھا —فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے تسلیم کیا ہے کہ صارفین کے لیے سسٹم میں ہونے والے نقصانات اس کی پالیسی کی ناکامی ہے، اس کے ساتھ ادارے نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپنے امور میں مداخلت کو بھی چیلنج کیا۔

اس کے علاوہ نیپرا نے اپنی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ میں 12 کھرب روپے کے گردشی قرضوں اور تقسیم کار نظام کی ناکامی کے ساتھ پاور سیکٹر کی پائیداری اور مالیاتی گنجائش پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاور ریگولیٹر کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ ’نیب تقریباً ان تمام منصوبوں کے بارے میں سوال کرچکا ہے جس کا ماضی میں نیپرا نے فیصلہ کیا تھا اور جس طرح تحقیقات کی جارہی ہیں اس نے نیپرا ماہرین کا مورال بالکل ختم کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا میں تقرریوں کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں اختلاف

نیپرا نے یہ بھی عرض گزاری کی کہ ’یہ معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ریگولیٹری کے دائرہ اختیار میں ہے ’اور یہ ان حدود سے ماورا جس میں نیب مداخلت نہیں کرسکتا‘۔

نیپرا نے زور دیا کہ اس سلسلے میں ایک مجموعی نظریے کی ضرورت ہے تا کہ عمومی طور پر توانائی کے شعبے میں اعتماد بحال ہو اور بالخصوص ریگولیٹر کو زک نہ پہنچے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دسمبر 2018 تک 10 کھرب سے زائد گردشی قرضوں کے سبب شعبہ توانائی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گیا تھا جس کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

مزید پڑھیں: کے الیکٹرک حفاظتی معیارات پر عملدرآمد کرنے میں ناکام، نیپرا

خیال رہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں بجلی کی پیداوار کی گنجائش 10 ہزار میگا واٹ تک بڑھی ہے تاہم ٹرانسمیشن کے شعبے میں صرف کسی حد تک بہتری دیکھنے میں آئی ہے جبکہ تقسیم کا شعبہ مکمل طور پر ناکام رہا۔

ریگولیٹر نے اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ شعبہ توانائی میں بہتر کارکردگی لانے کے لیے 1990 کے اوائل میں اصلاحاتی عمل کا آغاز کیا گیا اس کے باجود یہ شعبہ اب بھی ’ٹرانسمیشن اور تقسیم کے نظام کی خرابیوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر بجلی کی فراہمی کی ناقابلِ بھروسہ صورتحال سے دوچار ہے۔

رپورٹ میں نیپرا کا کہنا تھا کہ بجلی کے صارفین اب بھی اندرونی اور بیرونی وجوہات کی بنا پر مہنگی بجلی حاصل کررہے ہیں جبکہ حکومت کو تنزلی کا شکار اس شعبے کی بحالی کے لیے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خسارے سے نمٹنے کیلئے بجلی چوروں اور نادہندگان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

علاوہ ازیں بجلی کی تیاری کے لیے زیادہ تر درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی وجہ سے درآمد شدہ ایندھن کی قیمت وہ سب سے بڑی وجہ ہے جو براہِ راست توانائی کی پیداواری لاگت پر اثر ڈالتی ہے۔

اس کے علاوہ نیپرا نے حکومت کی اس پالیسی کو بھی چیلنج کیا جس کے تحت بجلی کے نقصان والے علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا جاتا ہےکیوں کہ یہ طویل مدتی بنیاد پر سود مند نہیں۔

چنانچہ ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ ’زیادہ نقصان والے علاقوں میں صرف لوڈ شیڈنگ کا ٹائم بڑھانا کافی نہیں بلکہ ان نقصانات کو کم کرنے والے اقدامات پر عملدرآمد کو اہمیت دینا بھی ضروری ہے۔