امریکا سے توقع ہے ٹرمپ-پیوٹن کی گفتگو شائع نہیں ہوگی، روس

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2019

ای میل

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم پارٹی شروع ہونے کا انتظار کررہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم پارٹی شروع ہونے کا انتظار کررہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

روس نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی انتظامیہ دونوں ممالک (امریکا اور روس) کے صدور کی ذاتی گفتگو کی ٹرانسکرپٹ شائع نہیں کرے گی جس طرح انہوں نے یوکرین کے ساتھ کیا۔

واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے سیاسی حریف ڈیموکریٹس کے منتخب صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو زیر کرنے کے لیے یوکرین کو امداد کی پیش کش کے نئے الزامات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر یوکرین میں اپنے ہم منصب پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ جوبائیڈن خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کروائیں۔

بعدازاں ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودمیر زیلنسکی سے ہونے والے ٹیلی فونک رابطے کی ٹرانسکرپٹ جاری کی گئی تھی جس کے تنیجے میں امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان کیا گیا۔

مذکور ٹرانسکرپٹ منظرعام پر آنے کے بعد روس کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا اور روسی صدر کے پریس سیکرٹری ڈمیٹری پیسکوف نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے تعلقات میں ایسا کچھ نہیں ہوگا جو پہلے سے ہی کئی مشکلات سے دوچار ہیں‘۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکا اور یوکرینی صدور کی گفتگو کی ٹرانسکرپٹ شائع کرنا واشنگٹن کا داخلی معاملہ ہے لیکن دونوں ممالک کے رہنماؤں کی گفتگو عام کرنا ’غیر متوقع‘ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ رے ٹرمپ، تیری کونسی کل سیدھی؟

ڈمیٹری پیسکوف نے کہا کہ ’سربراہان مملکت کی گفتگو ہمیشہ خفیہ رکھی جاتی ہیں اور ایسا ہی عالمی سطح پر ہوتا ہے‘۔

اس ضمن میں روس کے وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروا نے کہا کہ ’ہم پارٹی شروع ہونے کا انتظار کررہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نیٹو اتحادیوں کے مابین ہونے والی گفتگو کی ٹرانسکرپٹ شائع کردی جائے، اس طرح سی آئی اے، ایف بی آئی اور پینٹاگون کے خفیہ اجلاسوں کے ایجنڈے بھی شائع ہونے سے فائدہ پہنچے گا، سب کچھ شائع کردیا جائے‘۔

انہوں نے امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی سے متعلق بیان پر امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کیا یہ ڈیموکریٹس کا کام ہے کہ وہ امریکا کی جگ ہنسائی کرائے‘۔

مزیدپڑھیں: ٹرمپ کی حمایت میں ’آن لائن اشتہارات‘ چلانے پر امریکی اخبار پر پابندی

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ’نینسی پیلو سی نے کانگریس، وائٹ ہاؤس اور دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ ایسا ہی کیا‘۔

واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں آج تک صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، جن میں 1998 میں بل کلنٹن جبکہ 1868 میں اینڈریو جانسن کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا، ان دونوں صدور کو سینیٹ نے مواخذے کی بنیاد پر برطرف کردیا تھا۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف انکوائری کو 'وچ ہنٹ گاربیج' یا 'چڑیلوں کا شکار جیسی فضول چیز' قرار دیا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس سے ان کے 2020 کے انتخابات میں مدد ملے گی۔

مزیدپڑھیں: امریکی انتخابات کے دوران فیس بک کو روسی کمپنی نے اشتہارات دیے

نینسی پیلوسی نے امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ٹرمپ کے بطور صدر اقدامات سے ذلت آمیز حقائق سامنے آئے جس میں صدارتی حلف کی خلاف ورزی اور قومی سلامتی سے دھوکا شامل ہے'۔