امریکی صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2019

ای میل

اسپیکر امریکی ایوان نمائندگان نینسی پیلوسی کے مطابق صدر ٹرمپ پر عہدے اور اختیار کا غلط استعمال کے الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے گی — اے پی/فائل فوٹو
اسپیکر امریکی ایوان نمائندگان نینسی پیلوسی کے مطابق صدر ٹرمپ پر عہدے اور اختیار کا غلط استعمال کے الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے گی — اے پی/فائل فوٹو

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عہدے اور اختیار کا غلط استعمال کرنے کے الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر ملکی قوتوں سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

ان کے اس اعلان کے بعد امریکی سیاست نے امریکا کے صدارتی انتخابات سے 14 ماہ قبل ہی نیا موڑ لے لیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں آج تک صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، جن میں 1998 میں بل کلنٹن جبکہ 1868 میں اینڈریو جانسن کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا، ان دونوں صدور کو سینیٹ نے مواخذے کی بنیاد پر برطرف کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ رے ٹرمپ، تیری کونسی کل سیدھی؟

نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف انکوائری کو 'وچ ہنٹ گاربیج' یا 'الزام تراشی پر مبنی مہم' قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس سے ان کے 2020 کے انتخابات میں مدد ملے گی۔

نینسی پیلوسی نے امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 'ٹرمپ کے بطور صدر اقدامات سے ذلت آمیز حقائق سامنے آئے جس میں صدارتی حلف کی خلاف ورزی اور قومی سلامتی سے دھوکا شامل ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ان وجوہات کی بنا پر میں اعلان کر رہی ہوں کہ امریکی ایوان نمائندگان سرکاری مواخذے کی انکوائری کو آگے لے کر بڑھ رہی ہے'۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹ کے منتخب صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو نقصان پہنچانے کے لیے یوکرین کو امداد کی پیشکش کے نئے الزامات سامنے آئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر یوکرین میں اپنے ہم منصب پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ جوبائیڈن خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کروائیں۔

تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یوکرین کے صدر کو اس معاملے کی شکایات کس نے درج کروائی تھی، شکایت درج کیے جانے سے تقریباً 17 دن قبل امریکی صدر نے اپنے یوکرینی ہم منصب سے فون پر گفتگو کی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن نے یوکرین کی ایک قدرتی گیس کمپنی میں بحیثیت ڈائریکٹر خدمات انجام دی تھیں جب ان کے والد صدر بارک اوباما کے نائب صدر تھے، ان کا یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں اہم کردار رہا ہے۔

امریکی صدر نے جو بائیڈن پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے یوکرین میں اپنے بیٹے کی کمپنی کے خلاف تحقیقات کرنے والے تفتیش کار کو یوکرین کے لیے امریکی امداد بند کرنے کی دھمکی دے کر نکلوایا تھا۔

اتوار 22 ستمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں جوبائیڈن کے بیٹے پر الزام لگایا تھا کہ ہنٹر بائیڈن توانائی سے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے اور انہوں نے پوری دنیا میں مختلف ممالک اور سیاسی اثر و رسوخ کے حامل افراد سے ادائیگیاں وصول کیں اور یوکرین اور چین میں اپنی قسمت بنائی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی حمایت میں ’آن لائن اشتہارات‘ چلانے پر امریکی اخبار پر پابندی

نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ 'قانون سے کوئی بالاتر نہیں، صدر ٹرمپ کو لازمی جوابدہ ہونا چاہیے'۔

مواخذے کی دھمکیوں کے پیش نظر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ وہ 25 جولائی کو یوکرین کے صدر وولودمیر زیلنسکی سے ہونے والے ٹیلی فونک رابطے کی ٹرانسکرپٹ جاری کردیں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھیں گے کہ یہ نہایت دوستانہ ماحول میں تھی، کوئی دباؤ نہیں تھا اور جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کی طرح بدلے کے لیے نہیں تھی'۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مواخذے کی کارروائی کا اعلان صدر کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اقوام متحدہ میں اتنا اہم دن تھا، بہت کام تھا اور بہت کامیابیاں بھی جبکہ ڈیموکریٹس نے جان بوجھ کر اسے خراب کرنے اور اس کے معنی بدلنے کے لیے وچ ہنٹ گاربیج کی بریکنگ نیوز کا استعمال کیا گیا'۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر سے جو بائیڈن کے بارے میں گفتگو کرنے کا اعتراف کیا ہے تاہم انہیں سابق امریکی نائب صدر کے خلاف تحقیقات کرنے کے بدلے کروڑوں ڈالر دینے کی پیشکش کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔