حکومت کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، مولانا فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ اکتوبر 05 2019

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن نے 27 اکتوبر کو ہی ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔ — فوٹو: ڈان نیوز
مولانا فضل الرحمٰن نے 27 اکتوبر کو ہی ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔ — فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن حکومت کے خلاف نہ ختم ہونے والے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کی یہ جنگ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ان کی جماعت کشمیریوں کے ساتھ یوم سیاہ منانے کے ساتھ ہی اپنی آزادی مارچ کا آغاز کرے گی۔

مولانا کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئندہ کے احتجاج کے لیے اپنی حکمت عمل مرتب کرلی ہے، جبکہ ملک گیر احتجاج 27 اکتوبر کو ہی ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پورے ملک سے انسانون کا ایک سیلاب آرہا ہے اور اس کا پہلا پڑاؤ اسلام آباد ہی ہوگا جبکہ ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہی ہوگا۔‘

مزید دیکھیں: 'ہم مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کو سپورٹ کر رہے ہیں'

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے موقف کو پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے میں ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے اسے ناکام اور نااہل حکومت قرار دے دیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت چھوڑ کر نئے الیکشن کروائے جائیں جبکہ دوبارہ الیکشن کے مطالبے پر اتفاق رائے موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن 27 اکتوبر کے دن احتجاج پر نظرثانی کریں، وزیر خارجہ کی درخواست

مولانا کا کہنا تھا کہ 25جولائی 2018کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی، تاہم اب نا اہل اور ناجائز حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومتی حکمت عملی سے متعلق کہا کہ موجودہ حکومت میں روزگار فراہم کرنے کے بجائے اس کے تمام مواقع ہی ختم کردیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک ڈوب رہا ہے، ہر طرف سے ہم ناکامی کا سفر کر رہے ہیں۔

جمعیت علماء اسلام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کی تاجر برادری نے حکومتی اقدامات کے خلاف پورے ملک میں کامیاب ہڑتال کی۔

مزید دیکھیں: 'مولانا فضل الرحمٰن نظام کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں'

جے یو آئی ف کے احتجاج میں مدارس کے طلبہ کی شرکت سے متعلق بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مدارس کا مسئلہ بڑھا کر حکومت بین الاقوامی سپورٹ چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ امریکا میں کس سے ملاقات کی گئی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کا مدارس والا کارڈ فیل ہوچکا، مدارس اس کا اثر نہیں لے رہے جبکہ مدارس کے طلبہ میں انعامات تقسیم کرکے ہمیں کاؤنٹر کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایک مرتبہ پھر اپنی جماعت کے ملک گیر احتجاج پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جب انسان میدان میں اترتا ہے تو وہ گرفتاری سے نہیں ڈرتا، تاہم گرفتاریوں سے صرف اشتعال بڑھے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آزادی مارچ کا آغاز 27 اکتوبر سے ہوگا، مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ان کی جماعت اداروں سے تصادم نہیں چاہتی بلکہ ان کا احترام کرتی ہے۔

خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا اعلان کیا گیا ہے جس کی حمایت پیپلز پارٹی کی جانب سے کی گئی ہے تاہم بلاول بھٹو کی جماعت نے اس میں شرکت سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

دوسری جانب اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے مولانا فضل الرحمٰن کو احتجاج کی تاریخ میں توسیع کرنے کی تجویز دی تھی۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے حکومت مخالف احتجاج میں ملک بھر سے مدارس کے طلبہ بڑی تعداد میں شرکت کریں گے جبکہ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کہنے پر ’مذہب کارڈ استعمال‘ نہیں کر سکیں گے۔

آزادی مارچ بلیک منی کو وائٹ کرنے کا بہانہ ہے، فواد چوہدری

ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ احتجاج کرنا سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے، تاہم یہ آزادی مارچ ملک منی کو وائٹ کرنے کا بہانہ ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سیاست میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مدارس کے بچوں کو چارے کے طور پر استعمال کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے، ایک مرتبہ یہ بچے شعور کے نظام میں داخل ہوگئے تو ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی۔

قبل ازیں احتجاج سے متعلق فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک کے دو بڑے مقاصد ہیں جن میں ایک ان کی اپنی ذاتی سیاسی حیثیت کی بحالی جبکہ دوسرا مدرسہ اصلاحات کو روکنا ہے۔