لیگی وفد کی مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی مارچ کی تاریخ میں توسیع کی تجویز

02 اکتوبر 2019

ای میل

وزیر اعظم کی اقوام متحدہ کی تقریر ریاستی سطح پر تیار کی گئی تھی، مولانا فضل الرحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز
وزیر اعظم کی اقوام متحدہ کی تقریر ریاستی سطح پر تیار کی گئی تھی، مولانا فضل الرحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کے وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کر کے انہیں 'آزادی مارچ' کی تاریخ میں توسیع کی تجویز دے دی۔

اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 'مولانا کے سامنے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں آنے والی تجاویز رکھی ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) پہلے ہی آزادی مارچ کے حوالے سے اتفاق کرچکی ہے، (ن) لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں اتفاق رائے رکھتی ہیں کہ موجودہ حکومت ایک سال میں ناکام ہو چکی ہے اور معیشت اس تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہی ہے جس سے اگلے سال تک قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوجائیں گے۔'

انہوں نے کہا کہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیاں سامنے آچکی ہیں، گیس، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سب کے سامنے ہے، پاکستان کے 8 بڑے کاروباری افراد آرمی چیف کے پاس بتانے جارہے ہیں کہ کاروبار ٹھپ ہو رہا ہے، یہ بہت تشویش ناک ہے اور اگر تاجر آرمی چیف سے اپنے تحفظات دور کرانے کے لیے جائیں گے تو پھر ہم کہاں جارہے ہیں؟ حکومتی ناکامیوں کا سارا بوجھ اگر عسکری قیادت پر ڈالیں گے تو ملک کیسے چلے گا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ملک کے لیے شدید خطرہ بنتی جارہی ہے، آئے روز کابینہ میں تبدیلیوں سے ملک نہیں چلے گا، اصل مسئلہ ناکام اور انتقامی وزیراعظم ہے، عمران خان کو ملک چلانے سے کوئی غرض نہیں، انہیں صرف مخالفین کو جیل میں ڈالنا اور اپوزیشن پر نیب کا شکنجہ کسنا ہے، ہمیں بے شک جیلوں میں ڈال دیں، ان سے کوئی این آر او نہیں مانگ رہا، نہ یہ دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول، شہباز ملاقات: ’جمہوری راستہ تلاش کرلیا جو صرف انتخابات ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے بھارت نے اتنا بڑا اقدام اٹھا لیا لیکن وزیراعظم صرف این آر او پہ ڈٹے ہیں، وزیر اعظم کے ایک ہی جملے سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے، این آر او کی تسبیح مسائل کا حل نہیں ہے، قوم کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے کے لیے حقیقی تبدیلی اور عمران خان سے نجات کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتفاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے وفد نے مولانا فضل الرحمٰن کو پارٹی سفارشات پیش کی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کچھ وقت دیا جائے تاکہ (ن) لیگ بھی آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کر سکے، اگر ہم مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ چلیں گے تو نتائج اچھے آئیں گے۔

حکومت سے ڈیل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ 'ایک ایسی سیاسی جماعت جس کی تمام سینئر قیادت جیل میں ہے وہ کس طرح کسی سے ڈیل کرسکتی ہے، ہم قربانیوں پر کوئی ڈیل نہیں کریں گے، ہماری ڈیل پاکستان کے آئین کے ساتھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی جماعت کے اپنے اپنے خیالات اور نظریات ہوتے ہیں لیکن اپوزیشن تین پوائنٹس پر متفق ہے، پاکستان کے آئین کی حفاظت، موجودہ حکومت کی رخصتی اور جلد شفاف انتخابات کے انعقاد پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) آزادی مارچ کو نومبر تک موخر کرنا چاہتی ہے، احسن اقبال

مارچ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کیا گیا، مولانا فضل الرحمٰن

اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس وقت پاکستان داخلی طور پر بھی ڈوب رہا ہے، ملکی معیشت ڈوب رہی ہے، نوجوان مایوس ہیں انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے، تاجر کاروبار چھوڑ رہا ہے، پیسہ ملک سے باہر جارہا ہے، ملک کی مذہبی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے اور شعبہ زندگی سے وابستہ لوگ کرب میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'وزیر اعظم کی اقوام متحدہ کی تقریر ریاستی سطح پر تیار کی گئی تھی، جے یو آئی (ف) کے مارچ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کیا گیا، ایک طرف حجاب کا دفاع کیا جارہا تھا دوسری طرف اسی روز خیبر پختونخوا میں حجاب کرنے کی پابندی اٹھائی جاتی ہے، ایک طرف ناموس رسالت کی بات کی جاتی ہے دوسری طرف توہین رسالت کی مجرمہ کو رہا کیا جاتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں وزیر اعظم کا تقریر کے ذریعے ہوائی باتیں کرنا قوم کو قطعاً قبول نہیں ہے، انہوں نے باقاعدہ بین الاقوامی منصوبہ بندی اور رضا مندی کے ساتھ کشمیر کو بیچ ڈالا، اب وہاں انسانی حقوق کا جو مسئلہ پیدا ہوا اس پر واویلا کرکے اپنا جرم چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا فضل الرحمٰن کے احتجاج کی ’اخلاقی‘ حمایت کا فیصلہ

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کبھی بھی پڑوسی ممالک میں ایٹمی جنگ نہیں ہوتی نہ اس کا امکان موجود ہوتا ہے، ملک کے نااہل وزیر اعظم کی ایٹمی جنگ کی دھمکی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو داؤ پر لگا سکتی ہے، آج دنیا میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو غیر محفوظ قرار دیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ناجائز حکومت کے خلاف دیگر اپوزیشن جماعتوں کی باہمی مشاورت سے آگے بڑھ رہے ہیں اور (ن) لیگ کا وفد جو تجاویز لایا ہے کل جے یو آئی (ف) کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں انہیں سامنے رکھا جائے گا اور جو بھی فیصلے ہوں گے وہ متفقہ ہوں گے۔