سوئی ناردرن گیس نے ایل این جی پلانٹس کی فروخت سے خبردار کردیا

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2019

ای میل

حکومت، آئی ایم ایف سے طے کیے گئے مالی بیل آؤٹ پروگرام کے تحت 3 ارب ڈالر مالیت کے 2 نئے پاور پلانٹس کی فروخت کو اولین ترجیح دے رہی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
حکومت، آئی ایم ایف سے طے کیے گئے مالی بیل آؤٹ پروگرام کے تحت 3 ارب ڈالر مالیت کے 2 نئے پاور پلانٹس کی فروخت کو اولین ترجیح دے رہی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے غیر ملکی اور مقامی ایل این جی سپلائرز سے معاہدوں کو ختم کیے بغیر ایل این جی سے چلنے والے 2640 میگاواٹ کے سرکاری پاور پلانٹس (جی پی پی) کی نجکاری کی مخالفت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت، بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے طے کیے گئے مالی بیل آؤٹ پروگرام کے تحت پنجاب میں 3 ارب ڈالر مالیت کے 2 نئے پاور پلانٹس کی فروخت کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

نجکاری کمیشن کے فنانشل ایڈوائزر نے حکومت کے مذکورہ اقدام سے جڑے اکثر مالی خدشات کو نیشنل پاور پارکس منیجمنٹ لمیٹڈ کے اجلاس کے دوران بیان کیا۔

خیال رہے کہ نیشنل پاور پارکس منیجمنٹ لمیٹڈ حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پروجیکٹس کی مالک ہے اور دونوں منصوبوں کی پیداواری صلاحیت 1320 میگاواٹ ہے۔

مزید پڑھیں: ایل این جی پلانٹس کی فروخت میں معاونت کیلئے غیر ملکی بینکوں کی پیشکش

ایس این جی پی ایل نے سرکاری پاور پلانٹ کے معاملے میں عملدرآمد کے معاہدوں (آئی اے) اور گیس سپلائی کے معاہدوں (جی ایس اے) سے متعلق خدشات کی وضاحت کی۔

سوئی نادرن گیس کمپنی نے نجکاری کمیشن اور وزارت توانائی کو بتایا کہ وہ عملدرآمد کے معاہدے اور پاور پرچیس ایگریمنٹ (پی پی اے) میں فریق نہیں ہے لیکن ایس این جی پی ایل سے گیس سپلائی کے معاہدوں کے تحت سرکاری پلانٹس کی ذمہ داریوں اور حقوق کی عکاسی پی پی اے میں کی گئی تھی، جس میں زیادہ سے زیادہ گیس مختص کیے جانے کا 66 فیصد حصہ لازمی پہنچانا بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی معاہدہ، پی ایس او میں تعیناتیوں سے متعلق رپورٹ طلب

کمپنی نے مزید کہا کہ ’ جی پی پیز کے ساتھ جی ایس ایز کو اس وقت جاری اور طے کیے جانے والے مزید معاہدوں کی بنیاد پر حتمی شکل دی گئی تھی‘۔

ایس این جی پی ایل نے کہا کہ ’ اسی لیے آئی اے اور پی پی اے میں ری گیسفائید لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی سپلائی کے موجودہ نظام میں موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کسی ترمیم سے نہ صرف سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ بلکہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ یہ تینوں ادارے آر ایل این جی سے متعلق جی ایس اے اور جی پی پی معاہدوں کے مذاکرات میں بنیادی فریق ہیں‘۔

ساتھ ہی کمپنی نے حکومت کو معاہدوں کو بینک کے لیے قابلِ قبول اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی خاطر ان معاہدوں میں جی پی پی کی ذمہ داریوں میں ترمیم نہ کرنے کی تجویز دی ہے کیونکہ اس سے ایس این جی پی ایل، پی ایس او اور ایس ایس جی پی جیسے اداروں کو نقصان پہنچے گا۔

سوئی ناردرن نے مزید کہا کہ قطر گیس سے خرید و فروخت کا معاہدہ اور ایس این جی پی ایل سے پی ایس اور سوئی سدرن کے دیگر معاہدے پہلے ہی ’ 100 فیصد لو اور ادا کرو‘ پر ہیں اور اسی طرح سرکاری پلانٹس سے طے شدہ معاہدے، ٹرانزیکشن کی انہی شرائط کی عکاسی کرتے ہیں۔