سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری 100کھرب روپے کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کرگئی

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2019

ای میل

سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور مجموعی سرمایہ کاری کی 77.1 فیصد کی عکاسی کرتی ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی
سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور مجموعی سرمایہ کاری کی 77.1 فیصد کی عکاسی کرتی ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: بنیادی طور پر بینکنگ شعبے کے زیر اثر سرکاری کاغذات (بانڈز) میں سرمایہ کاری نئے ریکارڈ بناتے ہوئے 100 کھرب روپے سے تجاوز کرگئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی حالیہ رپورٹ میں ظاہر ہوتا ہے کہ اگست کے اختتام تک سرکاری کاغذات میں کارپوریٹ سیکٹر سمیت بینکس اور نان بینکس کی سرمایہ کاری 100 کھرب 30 ارب روپے تک پہنچ گئی، اس سرمایہ کاریوں میں بڑا حصہ قلیل مدتی کاغذات کے طور پر سامنے آیا۔

مزید پڑھیں: براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 50 فیصد کمی

بینکوں کی سرمایہ کاری غیرمعمولی سطح 70 کھرب 94 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئی جو خطرے سے پاک آلات میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور مجموعی سرمایہ کاری کی 77.1 فیصد کی عکاسی کرتی ہے۔

اسی طرح دیگر سرمایہ کاری انشورنس کمپنیز، فنڈز اور کارپوریٹ سیکٹر سمیت نان بینکوں سے آئی اور اس کی مالیت 20 کھرب 36 ارب 10 کروڑ روپے رہی۔

علاوہ ازیں عالمی بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ کہا تھا کہ پالیسی ریٹس میں حالیہ اضافے کی وجہ سے مضبوط قلیل مدتی ڈیپازٹ موبلائزیشن کو سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 2 ماہ میں 58 فیصد تک کمی

بینکنگ شعبے کی حکمت عملی طویل مدتی آلات یعنی پاکستان سرمایہ کاری بونڈز (پی آئی بیز) سے تبدیل ہوکر قلیل مدتی ٹریژری بلز ہوگئی۔

بینکوں نے 31 اگست تک قلیل مدتی ٹی بلز میں 55 کھرب 89 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی، مزید برآں 31 اگست کے بعد ہونے والی نیلامی میں ٹی بلوں میں سرمایہ کاری کا جاری رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اعلیٰ شرح سود کے باعث بینکوں نے سرکاری کاغذات میں لیکویڈیٹی کو ترجیح دی۔

ٹی بلز کا بینکوں کا شیئر مجموعی سرمایہ کاری کا 87.2 فیصد رہا جبکہ نان بینکس کی یہ شرح 12.8 فیصد یا 820 ارب 80 کروڑ روپے رہی۔