فضل الرحمٰن سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں، شاہ محمود قریشی

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

سیاسی جماعتوں کو سیاسی رویے اپنانے چاہیئں، شاہ محمود قریشی — فوٹو: پی آئی ڈی
سیاسی جماعتوں کو سیاسی رویے اپنانے چاہیئں، شاہ محمود قریشی — فوٹو: پی آئی ڈی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'وزیر اعظم کی سربراہی میں پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس تھا، اجلاس میں ہم نے چند سیاسی فیصلے کیے، ہم سیاسی جماعت ہیں اور سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی صلاحیت اور جذبہ رکھتے ہیں جس کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے پرویز خٹک کی سربراہی میں مولانا فضل الرحمٰن سے مذاکرات کے لیے مختصر کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'سیاسی جماعتوں کو سیاسی رویے اپنانے چاہیئں، مولانا فضل الرحمٰن کی کسی سیاسی بات میں وزن ہوا تو ہم سننے کو تیار ہوں گے اور اگر کوئی معقول راستہ نکل سکتا ہے تو ہم وہ راستہ نکالنے کو ترجیح دیں گے، یہ اس لیے نہیں کہ ہمیں کسی قسم کا خوف ہے، میں واضح الفاظ میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کو غلط فہمی ہےکہ کسی کی آمد اور دھرنے سے حکومتیں چلی جاتی ہیں تو ہمارا تجربہ اس سے زیادہ ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر کسی معاملے کا سیاسی حل نکل سکتا ہے تو ہمیں اس طرف دیکھنا چاہیے، پاکستان اس وقت عالمی فورم پر کشمیر کی لڑائی لڑ رہا ہے، اس معاملے میں کشمیریوں کے موقف کے لیے ایک آواز جانا ضروری ہے اور 27 اکتوبر وہ سیاہ دن ہے جس روز بھارت نے اپنی فوجیں سری نگر میں اتاری تھیں اور قبضہ کیا، کشمیر سیل نے وزیر اعظم کی منظوری سے یہ دن کشمیریوں کے اظہار یکجہتی اور یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: آزادی مارچ اب 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا، مولانا فضل الرحمٰن

وزیر خارجہ نے کہا کہ 'ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی مقامی ترجیحات کو فوقیت دیتے ہوئے بڑے مقصد کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے، اس وقت پاکستان 13 ماہ کی مشکل معاشی صورتحال سے گزر کر استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، اس وقت اگر کوئی غیر مستحکم صورتحال پیدا ہوئی تو اس کا معیشت کو نقصان ہوگا۔'

انہوں نے کہا کہ 'تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں فروری 2020 میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ نچلی سطح کے مسئلے نچلی سطح پر ہی حل کیے جاسکیں۔'

'خلیج میں جنگ کے بادل چھٹتے نظر آرہے ہیں'

سعودی عرب و ایران کے درمیان کشیدگی اور وزیر اعظم کے حالیہ دوروں کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ 'ایران اور سعودی عرب میں حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تاہم وزیر اعظم عمران خان کا ایران اور سعودی عرب کا دورہ کامیاب رہا اور ان کے دونوں ممالک کی قیادت سے مذاکرات اچھے رہے۔'

یہ بھی پڑھیں: سعودیہ-ایران ثالثی: وزیراعظم کا بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل پر زور

انہوں نے کہا کہ 'میں آج یہ کہتے ہوئے اطمینان محسوس کر رہا ہوں کہ خلیج میں جنگ اور تنازع کے بادل جو ہمارے سروں پر منڈلا رہے تھے وہ اب چھٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، پاکستان کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم مزید کسی تنازع کا شکار نہ ہوں، یہ مسئلہ کبھی آسان نہیں تھا جس پر ہمیں کوئی شک نہیں تھا اور اس کی تاریخ ہے، ماضی میں بھی اس پر کئی مداخلت ہو چکی ہے لیکن کل کی نشست حوصلہ افزا تھی اور ایک چیز جس پر اتفاق ہوا کہ ہم پرامن سفارتی عمل کو ترجیح دیں گے اور کوشش کریں گے کہ ہماری غلط فہمیوں کو گفت و شنید سے دور کر سکیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک اچھا آغاز ہوا ہے جس کی تفصیل میں اس وقت جانا مناسب نہیں ہے۔'

'وزیراعظم نے سعودی، ایرانی قیادت کو کشمیر کی نازک صورتحال سے آگاہ کیا'

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ 'وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی تائید و حمایت پر ایرانی اور سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔'

انہوں نے کہا کہ 'وزیر اعظم نے دونوں ممالک کی قیادتوں کو مقبوضہ کشمیر کی نازک صورتحال سے متعلق بتایا، آج یہ دنیا کہہ رہی ہے کہ وادی میں معاملات کتنے نازک ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے کشمیر کی صورتحال پر پارلیمانی سفارت کاری کا بھی آغاز کردیا ہے، انٹر پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کو اس حوالے سے کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔

پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'میرا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس کے ٹیلی فون کے سب سے زیادہ منتظر ہوں گے وہ وزیر اعظم عمران خان کا فون ہے۔'

بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'پاکستان نے کبھی کشمیر کے حل کے لیے بات چیت سے انکار نہیں کیا، بھارت ہمیشہ مذاکرات سے بھاگا، 5 اگست کے بھارتی اقدام نے حالات خراب کیے جس کے بعد موجودہ حالات اور مستقبل قریب میں پاک ۔ بھارت مذاکرات کی توقع نہیں۔'