'میڈیا کوریج روکنے سے متعلق آئی ایس پی آر یا کسی اور کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں'

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

سینیٹ کمیٹی نے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کردی—فائل فوٹو: اے پی پی
سینیٹ کمیٹی نے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کردی—فائل فوٹو: اے پی پی

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ میڈیا کوریج کو روکنے سے متعلق انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) یا کسی اور کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں کی گئیں اور نہ ہی پیمرا پر کوئی دباؤ ہے۔

تاہم سینیٹ کمیٹی نے میڈیا سینسر شپ کے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کردی جو ایک ماہ میں رپورٹ دے گی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اہم اجلاس سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا اور میڈیا سینسر شپ کا معاملہ ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔

اس دوران وزارت انسانی حقوق اور ڈی جی پیمرا، پیمرا کے سیکریٹری ٹو اتھارٹی فخر، جی ایم ایچ آر سمیت اجلاس میں شریک دیگر عہدیداروں نے 'اپوزیشن' کی میڈیا کوریج پر پابندی سے متعلق بریفنگ دی۔

دوران اجلاس پیمرا عہدیدار فخر نے بریفنگ بھی دی، اس دوران چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین پیمرا کی عدم حاضری پر ناراضی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ چیئرمین پیمرا کہاں ہیں؟ جس پر وہاں موجود پیمرا عہدیدار نے بتایا کہ وہ ایک اجلاس میں ہیں، اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پارلیمنٹ سے زیادہ کوئی اہم اجلاس ہوتا ہے؟ چیئرمین پیمرا سے متعلق ہمارے تحفظات ہیں۔

مصطفیٰ کھوکھر نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے ملک میں میڈیا کی آزادی سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں، لاہور ایئرپورٹ پر صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم کے ڈائریکٹر اسٹیون بٹلر کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا، ان کے پاس ویزا ہونے کے باوجود انہیں واپس بھیج دیا گیا، اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ پیمرا براہ راست میڈیا سینسرشپ میں شامل ہے، ریگولیٹری باڈی سے متعلق سامنے آنے والی چیزوں کو سامنے رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے انٹرویوز روکے گئے، کیا پیمرا کی جانب سے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا؟ اس پر پیمرا عہدیدار نے موقف اپنایا کہ سینسرشپ ہوتی تو سب سے پہلے پیمرا کے خلاف ہونے والے پروگرام سینسر ہوتے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیمرا نے سینسرشپ سے متعلق کوئی ہدایات جاری نہیں کیں، پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) اور پیمرا حکام کا ایک اہم اجلاس ہوا تھا، جس میں پی بی اے سے ضابطہ اخلاق اور اس پر عمل کرنے کی بات کی۔

پیمرا عہدیدار نے بتایا کہ پیمرا نے کسی پارٹی کو کوریج دینے یا نہ دینے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) کو کوریج دی جا رہی ہے۔

دوران اجلاس چیئرمین کمیٹی نے پوچھا کہ کیا پیمرا کی جانب سے کوئی میسج جاری کیا گیا تھا؟ جس پر پیمرا عہدیدار نے بتایا کہ اس بارے میں مجھے علم نہیں، اس پر چیئرمین کمیٹی نے پوچھا کہ کیا پیمرا پیغامات بھیجتا ہے، جس پر جواب دیا گیا کہ ویسے کوئی معاملہ ہو تو پیغام بھیج دیتے ہیں۔

پیمرا عہدیدار نے بتایا کہ اشتہار سے متعلق بھی پیغام بھیجا جاتا ہے، اس پر سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نے پوچھا کہ کیا آصف زرداری اور مریم نواز کے انٹرویوز نشر کرنے سے روکنے کے لیے کوئی پیغام بھیجا گیا، جس پر پیمرا عہدیدار نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے پوچھا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے پیمرا کو کوئی ہدایت ہے؟ جس پر عہدیدار نے بتایا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں۔

جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا پر مکمل کنٹرول ہے، کیا پیمرا پر کسی کا دباؤ ہے، پیمرا پر کسی پارٹی کی کوریج زیرو کرنے سے متعلق دباؤ ہے؟ اس پر پیمرا عہدیدار نے کہا کہ کسی پارٹی کی کوریج زیرو کرنے سے متعلق کوئی دباؤ نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ میڈیا کوریج روکنے سے متعلق آئی ایس پی آر یا کسی اور کی کوئی ہدایت نہیں، نہ ہی پیمرا پر کوئی دباؤ ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے اس معاملے پر پیمرا کے چیئرمین اور تمام افسران کے فونز کے فرانزک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی سے مدد طلب کرلی۔

ساتھ ہی میڈیا سینسر شپ کے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی قائم کردی جو ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرے گی کہ چیئرمین پیمرا کو کس نے پیغامات دیے یا اگر انہوں نے کسی کے کہنے پر میڈیا کوریج رکوانے کے لیے میسجز کیے تو وہ کون تھا؟

ذیلی کمیٹی چیئرمین پیمرا اور دیگر حکام کی جانب سے خلاف ورزی کرنے کے معاملے کو بھی دیکھے گی اور ذمہ داران کا تعین بھی کرے گی۔