27 اکتوبر کو اسلام آباد میں کوئی دھرنا نہیں ہوگا، اپوزیشن

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2019

ای میل

ہم وزیراعظم عمران خان کا استعفی، نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں، مولانا مجید ہزاروی — فوٹو: جاوید حسین
ہم وزیراعظم عمران خان کا استعفی، نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں، مولانا مجید ہزاروی — فوٹو: جاوید حسین

اسلام آباد میں متعدد اپوزیشن جماعتوں کے مقامی رہنماؤں کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن کی جانب سے 27 اکتوبر کو کوئی دھرنا نہیں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا مجید ہزاروی نے کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ '27 اکتوبر کو ملک بھر کی طرح اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر اور یوم سیاہ منایا جائے گا اور اپوزیشن نیشنل پریس کلب کے سامنے بڑا مظاہرہ کرے گی'۔

31 اکتوبر کے منصوبے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس روز آزادی مارچ کے شرکا کا استقبال کیا جائے گا اور بھرپور قوت کا مظاہرہ کریں گے۔

مزید پڑھیں: حکومت پرامن مارچ کی یقین دہانی کرائے پھر مذاکرات ہوں گے، اپوزیشن

انہوں نے اپنی جماعت کے مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ 'ہم وزیراعظم عمران خان کا استعفی، نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں'۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر طارق فضل چوہدری نے بھی واضح کیا کہ 27 اکتوبر کو مظلوم کشمیریوں کے ساتھ مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور کوئی دھرنا نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسلام آباد ہمارا شہر ہے، یہاں کے رہائشیوں کی مشکلات کا اندازہ ہے اور ہم انتظامیہ سے زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں'۔

انہوں نے اسلام آباد انتظامیہ کو خبردار کیا کہ 'پکڑ دھکڑ کرکے ماحول کو خراب نہ کیا جائے'۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سبط حسن بخاری نے بھی 27 اکتوبر کو اس ہی طرح کی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا اور کہا کہ 'ہمارا مظاہرہ پرامن ہوگا'۔

آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا نے 'نواز شریف، مریم نواز، آصف زرداری سمیت دیگر رہنماؤں کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا'۔

سبط حسن بخاری کا کہنا تھا کہ 'ہم سلیکٹڈ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آصف زرداری اور نواز شریف سے کسی کو ملاقات کی اجازت دی جائے'۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے حکومت کی 7 رکنی کمیٹی تشکیل

31 اکتوبر کے دھرنے میں پیپلز پارٹی کی شمولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'اس کا فیصلہ اپوزیشن رہنماؤں کی رہبر کمیٹی کرے گی جس کی حکومت مخالف مارچ پر مشاورت جاری ہے'۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت سے مذاکرات پرامن مارچ کی یقین دہانی کے بعد ہوں گے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی نے کہا تھا کہ 'حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ رابطے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی جبکہ غیر سنجیدگی کا ثبوت وزیر اعظم کی اپوزیشن کے بارے میں زبان ہے۔'

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت زیادہ تر اپوزیشن جماعتون نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے 31 اکتوبر کو حکومت مخالف احتجاج کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔

قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کے استعفے سے قبل حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔