ڈاکٹرز نے نواز شریف کے خون کی ٹیسٹ رپورٹس غیرتسلی بخش قرار دے دیں

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2019

ای میل

میڈیکل بورڈ کی جانب سے نواز شریف کے لیے  بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، یورک ایسڈ  اور معدے کی ادویات تجویز کی  گئیں۔ — فائل فوٹو/اے ایف پی
میڈیکل بورڈ کی جانب سے نواز شریف کے لیے بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور معدے کی ادویات تجویز کی گئیں۔ — فائل فوٹو/اے ایف پی

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کیس میں سزا پانے والے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صحت سے متعلق تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے خون ٹیسٹ کی رپورٹس تسلی بخش نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز کر رہے ہیں جبکہ اس بورڈ میں سینئر میڈیکل اسپیشلسٹ گیسٹروم انٹرولوجسٹ، انیستھیزیا اور فزیشن بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی طبیعت ناساز، نیب دفتر سے سروسز ہسپتال منتقل

میڈیکل بورڈ کی جانب سے نواز شریف کے لیے بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور معدے کی ادویات تجویز کی گئیں۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ محمود ایاز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے کچھ ٹیسٹ تسلی بخش ہیں کچھ نہیں ہیں اور جو تسلی بخش نہیں ان ٹیسٹ کو دوبارہ کروا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید وضاحت دی کہ 'سابق وزیر اعظم کے خون سے متعلقہ ٹیسٹ کی رپورٹس تسلی بخش نہیں'۔

نواز شریف کے خون کے خلیات میں کمی بدترین غفلت ہے، شہباز شریف

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اپنے بھائی کی عیادت کے لیے سروسز ہسپتال پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی صحت کو نقصان پہنچا تو وزیر اعظم ذمے دار ہوں گے، مسلم لیگ(ن)

ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 'نوازشریف کے خون کے خلیات خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے، اللہ کا شکر ہے کہ نوازشریف کے منہ یا ناک سے خون نہیں نکلا'۔

انہوں نے کہا کہ 'شریف خاندان اور ڈاکٹروں کو فکر ہے کہ نواز شریف کے اچانک کس طرح خون کے خلیات میں کمی واقع ہوئی'۔

انہوں نے بتایا کہ 'خون کے خلیات عام طور پر ڈیڑھ سے 4 لاکھ تک ہوتے ہیں لیکن نواز شریف کے وہ کم ہوکر صرف 15 ہزار تک پہنچ گئے تھے، نواز شریف کے خطرناک حد تک خون کے خلیات میں کمی اور اس کی اطلاع نہ دینا بدترین غفلت ہے'۔

شہباز شریف کے ہمراہ نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی ملاقات کی تھی۔