'قرضوں پر بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں وزیر اعظم کا جھوٹ ثابت ہوگیا'

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2019

ای میل

خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ حکومت نے پاکستانیوں کو اپنی نالائقی کی وجہ سے مہنگائی، بے روزگاری کی سولی پر لٹکا دیا ہے — فائل فوٹو/ڈان نیوز
خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ حکومت نے پاکستانیوں کو اپنی نالائقی کی وجہ سے مہنگائی، بے روزگاری کی سولی پر لٹکا دیا ہے — فائل فوٹو/ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی قرضوں پر بنائی جانے والی کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے جس میں ثابت ہوگیا کہ قرضوں میں کوئی خردبرد نہیں ہوئی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر لیگی رہنما محمد زبیر اور عائشہ غوث پاشا کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم جھوٹ پر قوم سے معافی مانگیں'۔

سابق وزیر دفاع خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ 'اس غریب دشمن حکومت نے 21 کروڑ پاکستانیوں کو اپنی نالائقی کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری کی سولی پر لٹکا دیا ہے'۔

مزید پڑھیں: ’معیشت کیلئے کیے گئے مشکل فیصلوں کے ثمرات آنا شرو ع ہوگئے‘

ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری ذمہ داری ہے کہ اس ایوان کے ذریعے معاشی پالیسی کی خرابیوں کو سامنے رکھیں، عمران خان 30 ہزار ارب کی گردان الاپتے نہیں تھکتے تھے'۔

انہوں نے کہا کہ 'وزیراعظم کی قرضوں پر بنائی جانے والی کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے جس میں ثابت ہوا کہ انہوں نے جھوٹ کہا اور قرضوں میں کوئی خرد برد نہیں ہوئی، وزیر اعظم جھوٹ پر قوم سے معافی مانگیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'موجودہ حکومت نے 10 ہزار 335 ارب کا قرضہ لیا ہے، اس حکومت کے لیے گئے قرضوں کی بھی انکوائری ہونی چاہیے'۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ 'تمام تر شماریاتی ردوبدل کے باوجود مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، عوام کس کے ہاتھ پر خون تلاش کریں، پیاز کی قیمت 29 سے 76 روپے تک پہنچ گئی، گیس کی قیمت 128 سے 246 تک پہنچ گئی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'کیا کسی بھی ادارے کا بجٹ خسارا کم ہوا ہے، پچھلے 9 ماہ سے پاکستان کی صنعتیں پیچھے کی طرف جارہی ہیں اور حکومت کو تیسرے مہینے ہی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو ٹیکس گھٹانے کی درخواست دینی پڑ گئی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے، حکومت کو عوام کے سامنے حقیقت بیان کرنی چاہیے'۔

یہ بھی پڑھیں: غلطی کی گنجائش نہیں، عالمی معیشت تباہی کی دھانے پر ہے، آئی ایم ایف

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ 'حکومت ایک دور کا دوسرے دور سے موازنہ کرنے کی بجائے ایک ایک سال کا موازنہ کر رہی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت حساب جاریہ کے خسارے (کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ) کو کم کرنے کو اپنی کامیابی بتا رہی ہے جبکہ حقیقت میں ملک کی بر آمدات میں 2 فیصد کمی آئی ہے اور صنعتوں نے خام مال منگوانا بند کردیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس دور حکومت میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 42 ہزار سے 35 ہزار تک پہنچ گیا جبکہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری بالکل منفی میں جاری ہے'۔