ہمارے پاس آؤ تو استعفیٰ لے کر آؤ خالی ہاتھ نہ آیا کرو، مولانا فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ 09 نومبر 2019

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومتی آرڈیننس کو جعلی قرار دے دیا—فوٹو:ڈان نیوز
مولانا فضل الرحمٰن نے حکومتی آرڈیننس کو جعلی قرار دے دیا—فوٹو:ڈان نیوز

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے لہجے کو تصادم کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان قبضہ گروپ کے لیے نہیں بنا اور مذاکرات کے لیے آؤ تو استعفیٰ لے کر آیا کرو۔

اسلام آباد میں 'آزادی مارچ' کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'کل میں نے یہ بات کہی تھی کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے لیکن اس کے اندر ہمارے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ ہماری پوری بات اپنی قیادت تک پہنچانے کی جرات رکھتی ہے، لہٰذا ہم نے انہیں پیغام دیا کہ ہمارے پاس آؤ تو استعفیٰ لے کر آؤ خالی ہاتھ نہ آیا کرو'۔

انہوں نے کہا کہ 'آج قومی اسمبلی میں کمیٹی کے سربراہ نے جس لب و لہجے کے ساتھ تقریر کی ہے اس لب و لہجے نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے کہ وہ مفاہمت کے جذبے سے عاری ہیں اور ان کی گفتگو مفاہمت کی نہیں بلکہ تصادم کی لگ رہی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے اندر واقعی مفاہمت کی خواہش ہے تو آپ کا لب و لہجہ اور پارلیمانی گفتگو بھی اس کی تائید کرے'۔

یہ بھی پڑھیں:اگر شرط صرف استعفیٰ ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ؟ وزیراعظم

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 'اس اسمبلی میں اب تک کوئی قانون سازی نہیں ہوئی، ان کا صدر آرڈیننس جاری کرتا ہے اور جب وہ آرڈیننسز جمع ہوجاتے ہیں تو جلدی جلدی میں انہیں بھگتاتے ہیں، لیکن ایسی اسمبلی کی قراردادوں اور قانون سازی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ جبر کے ضابطے اور قوانین ہیں اور میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسی جعلی اسمبلی کی قانون سازی بھی جعلی اور متنازع ہوتی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح کے جعلی وزیراعظم کے ایگزیکٹو آرڈر بھی جعلی ہوا کریں گے جس کو قوم تسلیم نہیں کرے گی اس لیے بڑی حساسیت کے ساتھ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آخرملک کو کس طرف لے جایا جارہا ہے ’۔

اپنے خطاب میں انہوں نے ضیاالحق کے زمانے میں آٹھویں ترمیم پاس ہوئی پورے دورانیے کے تمام قوانین کو جواز فراہم کی گئی لیکن آنے والی حکومت نے اس کا خاتمہ کردیا، پرویز مشرف نے قوانین پاس کیے اور جب اس نے خلاف ورزی کی تو آنے والی حکومت نے اس کا خاتمہ کردیا اس طرح ملک نہیں چلا کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ایڈہاکزم پر حکومتیں اور ملک نہیں چلا کرتے اسی لیے میں کہتا ہوں کہ ملک سے ایسے لوگوں کو فارغ کرو اور چھوڑو پاکستان کی جان، گو عمران، گو عمران’۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘ہم اس ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے، میں مانتا ہوں کہ ہماری افواج پاکستان نے قربانیاں دی ہیں اور اختلاف رائے کے باوجود ہم نے ان پر توقع رکھی کہ وہ اپنی قربانیوں کے نتیجے میں اس قوم کو امن دے گی اور میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہمارا تعاون نہ ہوتا ہماری قربانیاں نہیں ہوتی تو آپ اکیلے اس ہدف کو حاصل نہیں کرسکتے تھے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے تمام شہدا، ہمارے تمام اکابرین جنہوں نے جام شہادت نوش کی، ہمارے تمام ساتھی جن پر خود کش حملے کیے گئے اور ان حملوں پر 30،30 لوگ بیک وقت شہید ہوئے، آج اس دن کے لیے دیے تھے کہ اس قسم کے ناجائز لوگ پاکستان پر حکومت کریں گے، ہم نے اس کے لیے قربانیاں نہیں دی تھیں’۔

’پاکستان قبضہ گروپ کے لیے نہیں بنا’

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘اگر کوئی شخص اسلام کے نام پر بندوق اٹھاتا ہے تو ہم پاکستان کے آئین کے تحت ان کو ملک پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں تو ہم انتخابات میں دھاندلی کے نتیجے میں عمران خان جیسے آدمی کو بھی پاکستان پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے’۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم کا استعفیٰ یا 3 ماہ میں نئے انتخابات، فضل الرحمٰن کا حکومت کو واضح پیغام

انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس کو ایک قبضہ گروپ سمجھتے ہیں اور پاکستان قبضہ گروپ کے لیے نہیں بنا، پاکستان پر حق پاکستان کے عوام کا ہے، فیصلہ پاکستان کے عوام نے کرنا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم آئین اور قانون کی عمل داری کی بات کرتے ہیں، ہم اگر پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو پھر بات کیوں قبول نہیں کی جارہی کیونکہ ہم بالکل صحیح بات کررہے ہیں، آئیں امن کے لیے آگے بڑھیں ہمیں اپنے سے دو تین قدم آگے پائیں گے’۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘ہم قومی یک جہتی کی دعوت دیتے ہیں، ہم بیوروکریسی اور اسٹبلشمنٹ کو بھی یک جہتی کو بھی دعوت دیتے ہیں کیونکہ ہم سب ایک ہیں اور ہم ایک ہوکر جعلی حکومت کو جعلی کہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘تحریک انصاف کی پوری سیاست ایک لفظ پر کھڑی ہے کہ مخالف کو چور کہو’

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان منظم رہے۔