اگر شرط صرف استعفیٰ ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ؟ وزیراعظم

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2019

ای میل

وزیراعظم  سے مذاکراتی ٹیم نے ملاقات کی—فائل فوٹو: عمران خان انسٹاگرام
وزیراعظم سے مذاکراتی ٹیم نے ملاقات کی—فائل فوٹو: عمران خان انسٹاگرام

وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا، اگر شرط صرف استعفیٰ ہی کی ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟

وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اپوزیشن کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔

ملاقات میں موجود ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے 'کھلے دل سے احتجاج اور مارچ کی اجازت دی لیکن اگر شرط صرف استعفیٰ ہی کی ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ ہے۔

مزید پڑھیں: آزادی مارچ: کسی غیرآئینی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، وزیراعظم

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ ساتھ ہی انہوں نے 2018 کے عام انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بھی تیار ہونے کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے اسلام آباد میں 'آزادی مارچ' جاری ہے جو ایک دھرنے کی شکل اختیار کرگیا ہے کیونکہ 8 روز سے شرکا وہاں موجود ہیں اور آئندہ کتنے دن وہاں موجود رہتے ہیں اس حوالے سے ابھی کچھ علم نہیں۔

8 روز سے جاری اس آزادی مارچ میں اب تک کوئی ایسی اطلاعات سامنے نہیں آئیں کہ مارچ کے شرکا نے کسی املاک کو نقصان پہنچایا ہو۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں، نئے انتخابات کروائے جائیں اور اس میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو۔

تاہم وزیراعظم کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کے استعفے کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کیا جاچکا ہے جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم بھی یہ کہہ چکی ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر کوئی بات نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ آزادی مارچ کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی۔

اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی اس کمیٹی کی متحد اپوزیشن کی بنائی گئی رہبر کمیٹی سے متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کے باوجود دونوں فریقین میں استعفیٰ کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

آزادی مارچ کا پس منظر

واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے 25 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مقصد اکتوبر میں 'جعلی حکومت' کو گھر بھیجنا ہے۔

ابتدائی طور پر اس احتجاج، جسے 'آزادی مارچ' کا نام دیا گیا تھا، اس کی تاریخ 27 اکتوبر رکھی گئی تھی لیکن بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکا 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔

مذکورہ احتجاج کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت، استعفے کے سوا اپوزیشن کے تمام مطالبات پر مذاکرات کیلئے تیار

18 اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) نے آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا تھا تاہم 11 ستمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد میں دھرنے میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر ان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔

حکومت نے اسی روز اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔

پی پی پی کی جانب سے تحفظات اور ناراضی کا اظہار کیے جانے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن، پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے متحرک ہوگئے تھے اور حکومتی کمیٹی سے مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

بعدازاں وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 'آزادی مارچ' منعقد کرنے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔