وزیراعظم کا استعفیٰ یا 3 ماہ میں نئے انتخابات، فضل الرحمٰن کا حکومت کو واضح پیغام

ای میل

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی اگلی حکمت عملی میں ملک کی بڑی شاہراہوں کی بندش شامل ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی اگلی حکمت عملی میں ملک کی بڑی شاہراہوں کی بندش شامل ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے ذریعے وزیراعظم عمران خان اور مذاکراتی کمیٹی کو پیغام دیا ہے اور دو آپشنز میں سے کسی ایک پر فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیغام دیا ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں 3 ماہ میں نئے الیکشن کا اعلان کیا جائے، حکومت ان دونوں آپشنز میں سے کسی ایک پر فیصلہ کرے۔

ذرائع نے بتایا کہ اگلے آپشن کے طور پر جے یو آئی ایف نے تیاریاں بھی مکمل کرلی ہیں اور 12 ربیع الاول (اتوار) تک حکومت کے جواب کا انتظار کیا جائے گا جس کے بعد اگلی حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

ساتھ ہی ذرائع نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی اگلی حکمت عملی میں ملک کی بڑی شاہراہوں کی بندش شامل ہے۔

مزید پڑھیں: آزادی مارچ: حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈ لاک برقرار

ذرائع نے بتایا کہ تمام صوبائی اور وفاقی نشستوں سے استعفوں کا آپشن بھی مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

باخبر ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت نے اپوزیشن کی اگلی حکمت عملی پر اپنی تیاریاں شروع کرلی ہیں اور سیکیورٹی اطلاعات کی بنیاد پر اپنا پلان مرتب کررہی ہے۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا تھا کہ 'جمہوریت کی بات کرتے ہیں ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے، میں نے سب تماشے دیکھے ہیں، بھٹو کو کس نے گرایا؟ نواز شریف کی حکومت کس نے ختم کی؟ یہی لوگ کھڑے ہوئے انہوں نے مل کر سب کو گرایا'۔

انہوں نے کہا کہ 'جمہوریت چاہتے ہیں اور اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو آکر بات کریں، وہاں دھرنا دیا ہے تو بیٹھے رہیں لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، ملک کو تباہ نہیں کرنا'۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس، حکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ

پرویز خٹک نے کہا کہ 'یہ دھاندلی کی بات کرتے ہیں، ہم نے بھی دھاندلی کی بات کی ہم الیکشن کمیشن گئے، ہم عدالت گئے ہم اسمبلی آئے لیکن یہ تو بات سننے کو تیار ہی نہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں یہ جرگہ ٹائم پاس کرنے کے لیے ہے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ٹائم پاس کرتے ہیں'۔

گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو شہادتیں لیں گے اور لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے۔

آزادی مارچ

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جون میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اکتوبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف لانگ مارچ کرے گی۔

اپوزیشن جماعت کے سربراہ کا اس آزادی مارچ کو منعقد کرنے کا مقصد 'وزیراعظم' سے استعفیٰ لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان 'جعلی انتخابات' کے ذریعے اقتدار میں آئے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اس لانگ مارچ کے لیے پہلے 27 اکتوبر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں اسے 31 اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا، ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ 27 اکتوبر کو دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ منایا جاتا ہے، لہٰذا اس روز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔

اس آزادی مارچ کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے جے یو آئی (ف) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی۔

مزید پڑھیں: 'ہمیں اشتعال دلایا تو 24 گھنٹے میں شکست ہوجائے گی'

ابتدائی طور پر کمیٹی کے رکن اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے ملاقات کے لیے ٹیلی فون پر رابطہ کرنے کے بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنی جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو اس ملاقات کی اجازت دی تھی۔

تاہم 20 اکتوبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے پارٹی کے وفد کو صادق سنجرانی سے ملاقات کرنے سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ اب اپوزیشن کی مشترکہ رہبر کمیٹی کرے گی۔

علاوہ ازیں 21 اکتوبر کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت سے مذاکرات پرامن مارچ کی یقین دہانی کے بعد ہوں گے، جس کے بعد حکومت نے جے یو آئی (ف) کو 'آزادی مارچ' منعقد کرنے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

آزادی مارچ کی اسلام آباد آمد

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں آزادی مارچ کا آغاز 27 مارچ کو کراچی سے ہوا تھا جو سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا لاہور اور پھر گوجر خان پہنچا تھا اور 31 اکتوبر کی شب راولپنڈی سے ہوتا ہوا اسلام آباد میں داخل ہوا تھا۔

تاہم آزادی مارچ کے سلسلے میں ہونے والے جلسے کا باضابطہ آغاز یکم نومبر سے ہوا تھا، جس میں مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت مخالف ’آزادی مارچ‘ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے 2 دن کی مہلت دی تھی۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا تھا کہ پاکستان پر حکومت کرنے کا حق عوام کا ہے کسی ادارے کو پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

جلسے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے خطاب میں کہا تھا کہ 'عمران خان کا دماغ خالی ہے، بھیجہ نہیں ہے اور یہ جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں، جادو ٹونے اور پھونکیں مار کر تعیناتیاں ہورہی ہیں'۔

شہباز شریف نے کہا تھا کہ 'مجھے خطرہ یہ ہے کہ یہ جو جادو ٹونے سے تبدیلی لانا چاہتے تھے وہ پاکستان کی سب سے بڑی بربادی بن گئی ہے، میں نے 72 برس میں پاکستان کی اتنی بدتر صورتحال نہیں دیکھی'۔

پاکستان پپپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'مولانا فضل الرحمٰن اور متحد اپوزیشن کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہر جمہوری قدم میں ہم ساتھ ہوں گے اور ہم اس کٹھ پتلی، سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر بھیجیں گے'۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ایک سال میں تین بجٹ پیش کرکے بھی محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام اس حکومت کو اب ایک دن کی بھی مہلت نہیں دے سکتے۔

انہوں نے 12ربیع الاول کو آزادی مارچ کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

آزادی مارچ کا پس منظر

واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے 25 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مقصد اکتوبر میں 'جعلی حکومت' کو گھر بھیجنا ہے۔

ابتدائی طور پر اس احتجاج، جسے 'آزادی مارچ' کا نام دیا گیا تھا، اس کی تاریخ 27 اکتوبر رکھی گئی تھی لیکن بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکا 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔

مذکورہ احتجاج کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔

18 اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) نے آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا تھا تاہم 11 ستمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد میں دھرنے میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر ان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔

حکومت نے اسی روز اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔

پی پی پی کی جانب سے تحفظات اور ناراضی کا اظہار کیے جانے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن، پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے متحرک ہوگئے تھے اور حکومتی کمیٹی سے مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

بعدازاں وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 'آزادی مارچ' منعقد کرنے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔