امریکی،آسٹریلوی پروفیسرز کی رہائی کیلئے 3 طالبان رہنماؤں کو رہا کردیا،افغان صدر

13 نومبر 2019

ای میل

افغان عوام کے مفاد میں طالبان رہنماؤں کی 'مشروط رہائی' کا فیصلہ بہت مشکل تھا، افغان صدر — فائل فوٹو / اے ایف پی
افغان عوام کے مفاد میں طالبان رہنماؤں کی 'مشروط رہائی' کا فیصلہ بہت مشکل تھا، افغان صدر — فائل فوٹو / اے ایف پی

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت نے طالبان کے تین معروف رہنماؤں کو مشروط پر رہا کردیا ہے۔

طالبان رہنماؤں کی رہائی افغان حکومت کی ان کوششوں کے طور پر سامنے آئی ہے جن کے ذریعے طالبان کی قید میں موجود دو امریکی و آسٹریلیوی یونیورسٹی پروفیسرز کو رہا کرانا مقصد ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق اشرف غنی نے ٹی وی پر براہ راست نشر کیے گئے پیغام میں بتایا کہ افغان عوام کے مفاد میں طالبان رہنماؤں کی 'مشروط رہائی' کا فیصلہ ان کے لیے بہت مشکل تھا۔

افغان صدر کی جانب سے یہ اعلان ایک نازک وقت پر سامنے آیا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کی جانب سے مستقل حملوں کے بعد ستمبر میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات روک دیے تھے۔

دوسری جانب اشرف غنی کی حکومت کے مستقبل سے متعلق بھی ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج تاحال جاری نہیں کیے گئے ہیں، انتخابات کے ابتدائی نتائج 14 نومبر کو متوقع ہیں۔

مزید پڑھیں: طالبان رہنماؤں کی امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کا انکشاف

اشرف غنی نے قوم سے خطاب کے دوران بتایا کہ طالبان سے منسلک حقانی نیٹ ورک کے جن تین رہنماؤں کو رہا کیا گیا ان میں انس حقانی، حاجی مالی خان اور حافظ راشد شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان طالبان رہنماؤں کو دو پروفیسرز کی رہائی کے شرط کے بدلے رہا کیا گیا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ رہا ہونے والے تینوں طالبان رہنما ملک میں موجود ہیں یا بیرون ملک جا چکے ہیں۔

طالبان یا حقانی نیٹ ورک کی جانب سے تمام معاملے کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی انہوں نے اغوا کیے گئے پروفیسرز کو آزاد کرنے کا کوئی اشارہ یا وقت دیا ہے۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ یہ طالبان رہنما کابل کے باہر بگرام جیل میں افغان حکومت کی قید میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ 'انسانیت کے احترام کے اظہار کے لیے افغان حکومت اور قوم نے ان تین طالبان رہنماؤں کو مشروط طور پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں ہمارے بین الاقوامی پارٹنرز کے قریبی تعاون سے دیگر ممالک سے گرفتار کیا گیا تھا۔'

یہ بھی پڑھیں: اب افغانستان میں امن کا 'صحیح وقت' ہے، اشرف غنی

خیال رہے کہ طالبان طویل عرصے سے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور طالبان کے نائب سربراہ سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

انس حقانی کو 2014 میں بحرین سے گرفتار کرکے افغان حکومت کے حوالے کیا گیا تھا جس نے بعد ازاں انہیں سزائے موت سنائی تھی، تاہم یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں یہ سزا کب دی جائے گی۔

طالبان نے امریکی کیوِن کِنگ اور آسٹریلوی ٹِموتھی ویکِس کو 2016 میں کابل میں امریکی یونیورسٹی کے باہر سے اغوا کیا تھا، جہاں وہ بطور اساتذہ کام کرتے تھے۔

اگلے سال طالبان نے دونوں کی ویڈیوز جاری کی تھیں جس کے بعد امریکی فوج نے ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا، تاہم دونوں کی بازیابی عمل میں نہ آسکی تھی۔

افغان صدر کا مزید کہنا تھا کہ طالبان رہنماؤں کی رہائی کا ایک مقصد براہ راست امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔