لبنان میں احتجاج، فوج کی فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق

14 نومبر 2019

ای میل

لبنان  میں جاری احتجاج کے دوران تاحال دو ہلاکتیں ہوئی ہیں—فوٹو:اے ایف پی
لبنان میں جاری احتجاج کے دوران تاحال دو ہلاکتیں ہوئی ہیں—فوٹو:اے ایف پی

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ملک میں ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف جاری احتجاج کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج نے فائرنگ کی جس سے ایک شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق بیروت کے جنوبی علاقے میں مظاہرہ کیا جارہا تھا جہاں فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ شروع کردی جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک شہری ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔

لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ایک مہینے سے زائد عرصے سے جاری احتجاج کے دوران یہ دوسری ہلاکت ہے جبکہ جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑکوں کو بلاک کردیا گیا ہے۔

لبنانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بیروت کے ساحلی علاقے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کی گئی فائرنگ کے بعد ایک سپاہی کو گرفتار کیا گیا ہے۔

****مزید پڑھیں:لبنان کے وزیر اعظم شدید مظاہروں کے بعد مستعفی****

خیال رہے کہ لبنان میں گزشتہ ایک ماہ سے حکومت کے خلاف شدید مظاہرے کیے جارہے ہیں اسی دوران وزیراعظم سعد حریری نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا تاہم مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ کرپٹ سیاست دانوں کو برطرف کردیا جائے۔

حکومت کے خلاف جاری احتجاج مجموعی طور پر پرامن رہی ہے تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے وقتاً فوقتاً آنسو گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق احتجاج کا نیا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب صدر مائیکل عون نے اپنے اتحادیوں کے کا دفاع کیا اور مظاہرین کو اپنا احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی۔

عوام نے صدر مائیکل عون کے بیان کے ردعمل میں بیروت، تریپولی سمیت دیگر شہروں کے اطراف میں سڑکوں کو بلاک کر دیا اور احتجاج میں شدت آگئی جس کو منتشر کرنے کے لیے فوج کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

پرگریسو سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ ولید جمبلات کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والا شہری ان کی پارٹی کا کارکن تھا۔

انہوں نے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ‘جو واقعہ پیش آیا ہے اس کے باوجود ہمارے پاس ریاست کے علاوہ کوئی پناہ نہیں ہے، اگر ہم ریاست سے ناامید ہوگئے تو ہم افراتفری کا شکار ہوں گے’۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

قبل ازیں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جان کوبیز نے وزیراعظم کے استعفے کے بعد لبنانی حکومت پر زور دیا تھا کہ نئے حکومت تشکیل دی جائے تاکہ وہ عالمی برادری سے تعاون کی درخواست کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مالی اور معاشی صورت حال دگرگوں ہے، حکومت اور دیگر ادارے اس کی بہتری کے لیے مزید وقت ضائع نہیں کرسکتے’۔

ورلڈ بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ہر تیسرا لبنانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور خبردار کیا تھا کہ اگر نئی کابینہ فوری طور پر تشکیل نہ دی گئی تو بگڑی ہوئی معاشی صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔