لبنان میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2019

ای میل

لبنان میں ہزاروں افراد قومی پرچم ہاتھ میں اٹھائے حکومت مخالف مظاہرے کر رہے ہیں — فوٹو: رائٹرز
لبنان میں ہزاروں افراد قومی پرچم ہاتھ میں اٹھائے حکومت مخالف مظاہرے کر رہے ہیں — فوٹو: رائٹرز

لبنان میں گزشتہ روز اہم اقلیتی سیاسی جماعت کی جانب سے حکومت سے استعفے کے باوجود ہزاروں مظاہرین حکومت مخالف مسلسل چوتھے روز بھی احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق استعفیٰ دینے والے 4 رہنماؤں میں سے ایک وزیر برائے مزدور کامیلے ابوسلیمان کا کہنا تھا کہ 'حکومت کو تبدیل کرنے اور مسائل پر بات کرنے کی قابلیت سے ہمارا ایمان اٹھ چکا ہے'۔

واضح رہے کہ قرضوں میں ڈوبے ملک لبنان کے شہری ٹیکس میں اضافے اور خراب ترین معاشی صورتحال کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: طویل سیاسی تنازع کے بعد لبنان میں حکومت کی تشکیل

وزارت خزانہ کے مطابق لبنان کا عوامی قرضہ 86 ارب ڈالر سے زائد ہے جو ان کی کل شرح نمو کا 150 فیصد ہے۔

حکومت کی مسائل کے حل نکالنے میں ناکامی کی وجہ سے احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

حال ہی میں ہونے والے ٹیکس اضافے میں پیغام رساں ایپلی کیشن واٹس ایپ پر کی جانے والی کالز پر بھی 0.2 ڈالر تک ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی حالانکہ اس طرح کی کالز لبنان میں رابطے کا اہم ذریعہ ہیں۔

حکومت کی جانب سے ان ٹیکسز کو واپس لینے کے اعلان کے باوجود مظاہرے شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 4 روز سے مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں اور یہ صورت حال صرف بیروت میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ہے جہاں مظاہرین حکومت سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی لڑاکا طیاروں کا لبنان میں فلسطینی بیس پر حملہ

جہاں ہزاروں افراد سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں وہیں اب بھی کئی افراد سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے حکومت کی تبدیلی مشکل ہوتی جارہی ہے۔

مظاہرین کو خوش کرنے کے لیے لبنان کے وزیر خزانہ نے وزیر اعظم سعد حریری سے ملاقات کے بعد اعلان کیا تھا کہ انہوں نے حتمی بجٹ میں اضافی ٹیکس یا فیس عائد نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص کا کہنا تھا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ سب ہمارے ساتھ مل جائیں تاکہ ہم اس حکومت کا خاتمہ کرسکیں'۔

خیال رہے کہ جمعے کے روز سعد حریری نے حکومت میں اپنے شراکت داروں کو نئے ٹیکس عائد کیے بغیر ملک کی معیشت بہتر کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی تھی۔