’جیل میں بند ہوجانے سے قیدی انسانی کنبے سے الگ نہیں ہوجاتا‘

15 نومبر 2019

ای میل

میاں نواز شریف کو باہر علاج کروانے کی اجازت دے کر عمران خان نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن پھر فیصلے کو ٹالنے کے لیے ای سی ایل سے نام نکلوانے کے معاملے پر لاحاصل لڑائی کے بعد بلاجواز و غیر حقیقی مچلکوں کی طلبی سمیت جن طریقوں کو بھی اپنایا گیا وہ ایک ذمہ دار حکومت کو زیب نہیں دیتا۔

ملک سے باہر علاج کروانے کے معاملے پر آخری فیصلہ چاہے جو بھی ہو مگر حکومت کو اس معاملے سے جڑے مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

ایک طرف جب یہاں سابق وزیرِاعظم کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کے معاملے پر غیر سنجیدہ تنازع برپا ہے، تو دوسری طرف اقوام متحدہ کے پینل نے سابق صدر محمد مرسی کی جیل میں ہلاکت کا ذمہ دار مصری حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ پینل کے مطابق سابق صدر کو بدترین حالات میں قید رکھا گیا جبکہ ان کی تشویشناک بیماری پر زیادہ توجہ بھی نہیں دی گئی تھی۔ اسلام آباد اگر چاہے تو قائرہ جیسی شرمندگی اٹھانے سے خود کو بچا سکتا ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ حکومت کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ وہ سیاستدان جو جیل میں دنیا سے کوچ کرتا ہے وہ ایک عظیم تر رہنما بن جاتا ہے اور اپنی سیاسی جماعت کو انتخابات میں کم از کم ایک بار تو ضرور کامیابی دلواتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے لیے اس سے بڑھ کر سبق اور کیا ہوسکتا ہے؟

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا حکومت کو کسی نے قیدیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ان اصولوں (UN Standard Minimum Rules for the Treatment of Prisoners) کی یاد دہانی کروائی بھی تھی یا نہیں جن کا اطلاق اس کیس پر ہوتا ہے۔

ان اصولوں کو 1957ء میں اپنایا گیا تھا اور آخری بار ان اصولوں کے اندر 2015ء میں ترمیم کی گئی تھی اور آج ان اصولوں کو عظیم عالمی رہنما نیلسن منڈیلا کی نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اور 24 برسوں تک لمبی بلاجواز قید کے اعتراف کے طور پر ’منڈیلا رولز‘ پکارا جاتا ہے۔

24 تا 35 تک موجود اصولوں میں جیل حکام کو تمام قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی بشمول اسپیشلسٹس سے علاج کروانے کے لیے کلنکس اور ہسپتال منتقلی سے متعلق ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ گیا ہے۔

اصول 24 کے مطابق، ’قیدیوں کو طبی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ قیدی بھی دیگر شہریوں کی طرح طبی سہولیات سے مستفیض ہوسکتے ہیں پھر چاہے وہ کسی بھی قانون کے تحت جیل میں بند ہوں۔ انہیں ضروری طبی سہولیات تک مفت میں رسائی دی جانی چاہیے‘۔ جس طرح ایک امیر شہری اپنے خرچے پر علاج کے لیے بیرونِ ملک جاتا ہے اسی طرح ایک امیر قیدی بھی ایسا کرسکتا ہے۔

دیگر ہائی پروفائل قیدیوں بالخصوص نیب متاثرین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔

علم و فراست رکھنے والے شہری یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو جن سہولیات کی پیش کش کی جاتی ہے کیا ان کا دائرہ عام اور غریب قیدیوں تک بڑھایا جاسکتا ہے یا نہیں؟

یہ سوال اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے نواز شریف کو ضمانت پر رہائی دیتے وقت اٹھایا تھا اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ملک کی جیلوں میں موجود بیمار قیدیوں کے بارے میں بھی رپورٹس طلب کی تھیں۔ اس معاملے کو قطعی طور پر سرد خانے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ گزشتہ حکومتوں نے جیل سے متعلق اقوام متحدہ کے 1957ء کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جیل قوانین میں ترامیم کیں اور ان میں قیدیوں کے طبی حقوق سے متعلق متعدد اصولوں کو بھی شامل کیا گیا۔ مثال کے طور پر 18ویں اصول کے مطابق قیدی کا جیل میں آتے ہی طبی معائنہ کرنا لازمی ہے اور 19ویں اور 20ویں اصول کے تحت قیدی کے وہ زخم جو ریکارڈ میں موجود نہیں ہیں انہیں ریکارڈ میں شامل کرنا اور سیشن جج کو زخموں کی تفصیلات سے آگاہ کرنا لازمی ہے۔

اصول 146 کے تحت قیدیوں کو بڑی عمر، ذہنی و جسمانی کمزوری کی بنیاد پر رہائی دی جاسکتی ہے، جبکہ جیل قوانین کا 32واں باب (اصول 726 تا 809) بیمار قیدی کا خیال رکھنے، تشویشناک بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کی منتقلی اور ذہنی مسائل کا سامنا کرنے والے قیدیوں کا خاص خیال رکھنے سے متعلق جیلروں کے فرائض پر مبنی ہے۔

کیا ان اصولوں پر عمل بھی ہو رہا ہے؟ اگرچہ ان قوانین کو سرے سے نظر انداز تو نہیں کیا گیا ہے تاہم ان پر من و عن عمل بھی نہیں ہوپاتا۔ کوئی بھی جیلر کسی قیدی کو ذہنی و جسمانی کمزوری یا بیماری کی بنیاد پر رہائی دلوانے کا نہ تو ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی جرات کرتا ہے۔

ایک دن آئی جی پولیس بلوچستان نے تشدد کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ صرف بلوچستان میں ہی 60 سزا یافتہ قیدی برسوں سے رحم کی اپیل پر فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ قیدی عمر قید کے برابر سزا بھگت چکے ہیں، جبکہ ان میں سے کئی قیدیوں کی حالت تشویشناک ہے اور چند کو نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سے چند قیدی فی الفور رہائی کے مستحق ہیں۔ جب تک صدارت کی سطح پر ہمدردی کا فقدان رہے گا، تب تک جیلوں کا اسٹاف بھی انسان دوست رویوں سے دُور رہے گا۔

پاکستان میں حکام کو منڈیلا رولز زیادہ پسند نہیں آتے کیونکہ ان لوگوں کے لیے وہ اصول بے معنی ہیں جن کی بنیاد پر منڈیلا رولز کو مرتب کیا گیا ہے۔ ان اصولوں کے مطابق قیدی انسان ہونے کے ناطے ازلی انسانی وقار کا مستحق ہے، جیل میں بند ہوجانے سے وہ انسانی کنبے سے الگ نہیں ہوجاتا۔

اصول نمبر ایک کہتا ہے کہ ’تمام قیدیوں کے ازلی انسانی وقار کا احترام کیا جائے۔ کسی بھی قیدی کو ٹارچر اور دیگر ظالمانہ، غیرانسانی یا تحقیرانہ رویوں یا سزاؤں کا نشانہ نہ بنایا جائے، چاہے جو بھی حالات ہوں اور انہیں ہر قسم کا تحفظ بھی فراہم کیا جائے۔ ہر لمحہ جیلوں میں قید قیدیوں، اسٹاف، خدمات فراہم کرنے والے اور ملاقاتیوں کے تحفظ اور ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے‘۔

پاکستانیوں کی ذہنیت ان خیالات سے انجان ہے کیونکہ ان پر گزشتہ چند دہائیوں سے ظالم اور بے حس حکمرانوں کی حکمرانی کے بہت زیادہ اثرات مرتب ہوچکے ہیں۔ ملک اس وقت خود کو نیک و کار دکھانے والوں کی گرفت میں ہے جو سیاسی جنگجؤں کو سنجیدہ دلائل کی جگہ فصول جملہ بازی کا سہارا لینے کی ترغیب دیتے ہیں۔

جب میاں نواز شریف کو جیل میں ڈالا گیا تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے نام کا ابتدائی حصہ کھو دیا اور پھر جب مولانا فضل الرحمٰن نے دھرنا شروع کیا تو سرکاری میڈیا نے ان کے نام کا پہلا حصہ کھا لیا۔

اس کے علاوہ اصول 5 میں بھی مسائل دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔ اس اصول کے مطابق ’جیل انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ قیدیوں کی آزادانہ زندگی اور قید میں گزرتی زندگی کے درمیان موجود تفریقات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرے جن کے باعث قیدیوں کی ذمہ داری یا پھر بطور انسان ان کے وقار میں کمی آتی ہو‘۔

ہمارے وزرا شاید یہ پوچھنے لگ جائیں کہ اگر آزاد اور قید میں گزرتی زندگی میں فرق نہیں رکھا گیا تو لوگوں کو جیل میں ڈالنے کی کیا تُک بنتی ہے۔ لیکن ان کی سوچ سراسر غلط ہے۔

نیلسن منڈیلا سے منسوب یہ اصول پاکستانی حکام اور بدلے پر مصالحت کو فوقیت دینے پر مبنی ان کے عقیدے کے لیے بے معنی سی چیز ہیں۔

پاکستان میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناگوار سلوک کی جڑیں اشرافیہ کے غرور و تکبر اور ان کی اس ثقافت میں پیوست ہیں جس میں انسانوں کے مساوی حقوق اور عظمت کی کوئی جگہ نہیں۔


یہ مضمون 14 نومبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔