مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر آواز اٹھانے پر پاکستان کا امریکی کمیشن کا خیرمقدم

17 نومبر 2019

ای میل

امریکی کانگریس  کی میٹی انسانی حقوق کمیشن نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرنے پر زور دیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
امریکی کانگریس کی میٹی انسانی حقوق کمیشن نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرنے پر زور دیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

پاکستان نے امریکی کانگریس کی ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال پر آواز اٹھانے کا خیر مقدم کیا جہاں گزشتہ 100 سے زائد دن گزر چکے ہیں لیکن شہری پابندیوں کا شکار ہیں۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘امریکی کانگریس کے ہیومن رائٹس کمیشن کے ٹام لینٹوس کی جانب سے 14 نومبر کو واشنگٹن ڈی سی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر سماعت کا پاکستان خیر مقدم کرتا ہے’۔

بیان کے مطابق کمیشن کے اس اقدام سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی عالمی سطح پر نمایاں ہوئی ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘کمیشن کی سماعت کے دوران مقبوضہ کشمیر میں آزادانہ تحقیقاتی مشن کا مطالبہ کیا گیا اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو سماعت میں زیر بحث آیا’۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی برائے ایشیا میں سماعت کے ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں لینٹوس کمیشن کی سماعت اس بات کی عکاس ہے کہ کشمیر کی صورت حال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے’۔

مزید پڑھیں:امریکی کانگریس کی ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان امریکی کانگریس کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو مقبوضہ کشمیر میں شہریوں پر سنگین مظالم پر اپنی آواز بلند کررہے ہیں اور بھارتی حکومت سے ان مظالم کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں’۔

دفترخارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘امریکی قیادت اور اراکین پارلیمان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہیں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی، اظہار آزادی، حق خود ارادیت، خطے میں امن و استحکام ادراک ہے اور حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں’۔

بیان میں کہا گیا کہ سماعت کے دوران کہا گیا کہ دنیا بھر سے صحافیوں، انسانی حقوق کی آزاد تنظیموں اور اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سماعت میں شامل اراکین نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں عائد پابندیاں ختم کی جائیں، مواصلات کی بندش کو ختم کرکے انسانی حقوق کو بحال کردیا جائے اور مجموعی طور پر زور دیا گیا کہ بھارت کو مذہبی اور نسلی سمیت ان مظالم کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے’۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی کانگریس میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر موضوعِ بحث

یاد رہے کہ دو روز قبل امریکی کانگریس کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھارت کو ایک مرتبہ باور کروایا تھا کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔

کانگریس کے رکن ٹام لینٹوز کے انسانی حقوق کمیشن نے 5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سماعت کی تھی جس میں کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کی غیر معمولی حمایت کی گونج دہائیوں میں شاید پہلی مرتبہ سنائی دی۔

اوہائیو یونیورسٹی میں مرکز برائے قانون و انصاف کی ڈائریکٹر ہیلی دشینسکی نے اپنے اختتامی کلمات میں یہ مسئلہ اٹھایا اور پینل کو یاد کروایا کہ '70 برس سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کیے گئے وعدے کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کا موقع نہیں دیا گیا'۔

جیمز میک گورن نے کہا کہ 'ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں جو انسانی حقوق کی عظمت چاہتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے الزامات کو لوگوں کی بنیادی آزادی سلب کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ اس بلیم گیم سے کیسے نکلنا ہے'۔