سری لنکا: صدارتی انتخاب میں سابق صدر کے بھائی کامیاب

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2019

ای میل

ترجمان کیہیلیا رام بکوئلا نے کہا کہ یہ ایک واضح برتری ہے اور ہمیں امکان بھی تھا —فوٹو: رائٹرز
ترجمان کیہیلیا رام بکوئلا نے کہا کہ یہ ایک واضح برتری ہے اور ہمیں امکان بھی تھا —فوٹو: رائٹرز

سری لنکا کے صدارتی انتخاب میں سابق صدر مہندا راجا پاکسا کے بھائی گوٹابایا راجا پاکسا نے کامیابی حاصل کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل گوٹا بایا راجا پاکسا نے 54-53 فیصد ووٹ حاصل کیے اور کامیاب ہوئے۔

مزید پڑھیں: سری لنکا میں صدارتی انتخاب، مسلمان ووٹرز کی بس پر فائرنگ

دوسری جانب حکومتی امیدوار سجیتھ پریما داسا نے گزشتہ روز ہونے والے صدارتی انتخاب میں اپنی شکست تسلیم کی اور اپنے حریف گوٹابایا راجا پاکسا کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

ترجمان کیہیلیا رام بکوئلا نے کہا کہ 'یہ ایک واضح برتری ہے اور ہمیں امکان بھی تھا'۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ گوٹا بایا راجا پاکسا اگلے صدر ہوں گے اور وہ ایک دو روز میں حلف اٹھالیں گے۔

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کے سربراہ مہیندا دیشاپریا کے مطابق ایک کروڑ 60 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 80 فیصد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صدارتی انتخاب میں راجا پاکسا کو 52.87 فیصد ووٹوں سے برتری حاصل ہوئی جبکہ ان کے انتخابی حریف سجیتھ پریما داسا 39.67 ووٹ حاصل کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا میں وزیراعظم کا ’تنازع‘، پارلیمنٹ میدان جنگ بن گیا

علاوہ ازیں سری لنکا کے الیکشن کمیشن کے سربراہ مہیندا دیشاپریا نے کہا کہ ٹرن آؤٹ 80 فیصد رہا جو 2015 کے صدارتی انتخاب کے مقابلے میں کم ہے، گزشتہ انتخاب میں 81 اعشاریہ 5 فیصد ٹرن آؤٹ رہا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز جب صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری تھا تو نامعلوم دہشت گردوں نے مسلمان ووٹرز کی بس پر فائرنگ کی تھی۔

مسلح افراد کی فائرنگ سے کم ازکم ایک مسلمان زخمی ہوگیا تھا اور مذکورہ واقعے کو مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے سے دور رکھنے کی سازش تصور کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس سری لنکا میں راجا پاکسا اور مخالف سیاسی جماعت کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے تھے اور وہ متنازع انداز میں ملک کے وزیراعظم بن گئے تھے تاہم انہیں مستعفی ہونا پڑا۔

مزید پڑھیں: سری لنکا: پارلیمنٹ نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کرلی

سری لنکا میں گرجا گھروں میں ہونے والے حملوں کے بعد امن و عامہ کے مسائل کھڑے ہوگئے تھے اور مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد سیکیورٹی کو مزید بہتر کیا گیا تھا۔

پاکستان کا نومنتخب صدر کو مبارکباد

دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے حکومت کی جانب سے سری لنکا کے نومنتخب صدر کو مبارکباد پیش کی۔

اس حوالے سے ایک جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ 'پاکستان کو یقین ہے کہ ان کی قائدانہ صلاحیت کی بدولت سری لنکا خوشحالی اور امن کی طرف اپنا سفر جاری رکھے گا'۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ 'ہم ملک کے نئے صدر اور ان کی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں اور دونوں ممالک کے مابین پہلے سے بھی مضبوط تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں'۔

مزید پڑھیں: سری لنکا: صدر کا 5 جنوری کو ملک میں قبل ازوقت انتخابات کروانے کا اعلان

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان، سری لنکا کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت دینے اور اہم شراکت کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے عزم کا اظہار کرتی ہے'۔

علاوہ ازیں اعلامیے میں پاکستان نے سری لنکا کی حکومت اور الیکشن کمیشن کے ذریعے 'آزادانہ، منصفانہ اور پرامن انتخابات' کے انعقاد کو سراہا۔