پاک بحریہ اور رائل بحرین ڈیفنس فورس کی مشترکہ بحری مشق کا اختتام

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2019

ای میل

مشقوں کے دوران اہلکاروں نے اپنے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا — فوٹو بشکریہ باک بحریہ
مشقوں کے دوران اہلکاروں نے اپنے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا — فوٹو بشکریہ باک بحریہ

پاک بحریہ کے اسپیشل سروس گروپ اور بحرین کے رائل ڈیفنس فورس کے اسپیشل آپریشن فورس کے مابین مشترکہ مشق 'شاہین الجزیرہ 2019' کراچی میں اختتام پذیر ہوگئی۔

پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق 'پاک بحریہ اور رائل بحرین ڈیفنس فورس کے درمیان مشق ہر سال منعقد کی جاتی ہے اور مسلسل 10 روز تک جاری رہنے والی حالیہ مشق اسی سلسلے کی 13ویں بحری مشق تھی'۔

مزید پڑھیں: پاک بحریہ کی آپریشنل مشق 'رباط 2019' اختتام پذیر

اعلامیے میں بتایا گیا کہ 'مشق کے اہم مقاصد میں مضبوط عسکری تعلقات، اسپیشل آپریشن فورسز کے مابین روابط اور مشترکہ آپریشنز کی تیاری میں بہتری اور پیشہ ورانہ مہارت کا تبادلہ شامل تھا'۔

پاک بحریہ اور بحرین کے رائل ڈیفنس فورس کے اہلکاروں نے مشقوں میں شرکت کی — فوٹو بشکریہ پاک بحریہ
پاک بحریہ اور بحرین کے رائل ڈیفنس فورس کے اہلکاروں نے مشقوں میں شرکت کی — فوٹو بشکریہ پاک بحریہ

دونوں افواج کے اہلکاروں نے مشق کے دوران میری ٹائم انٹر ڈکشن آپریشنز، سیل ٹیمز انسرشنز ٹیکنیکس اور فراگ مین آپریشنز کے انعقاد سے بھر پور استفادہ کیا۔

مشق کا اختتام بحیرہ عرب میں مشترکہ بورڈنگ آپریشن کے شاندار مظاہرے سے ہوا جس میں پاک بحریہ کے بحری جہازوں، سی کنگ ہیلی کاپٹرز، اسپیشل فورسز کی کشتیوں اور پاک بحریہ اور رائل بحرین ڈیفنس فورس کی ایس او ایف ٹیموں نے حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کی کامیاب ’امن مشق 2019‘ کا اختتام

مشق کی اختتامی تقریب بحیرہ عرب میں منعقد ہوا جس کا مشاہدہ پاک بحریہ کے جہاز پر موجود بحرین کی نیول اسپیشل فورس کے کمانڈر نے کیا جنہوں نے مشق کے کامیاب اور پیشہ وارانہ انعقاد کو سراہا۔

شاہین الجزیرہ 2019 مشق کراچی میں 10 روز تک جاری رہیں — فوٹو بشکریہ پاک بحریہ
شاہین الجزیرہ 2019 مشق کراچی میں 10 روز تک جاری رہیں — فوٹو بشکریہ پاک بحریہ

پاک بحریہ کے مطابق بحری مشق پاک بحریہ او ر رائل بحرین ڈیفنس فورس کے درمیان مضبوط دوطرفہ عسکری تعاون کی عکاس ہے اور اس دوران حاصل کیا گیا پیشہ ورانہ تجربہ باہمی طور پر سود مند رہا اور یہ 2 برادرانہ ممالک کے مابین دو طرفہ تعاون میں فروغ کا باعث بنے گا۔