ایڈورڈ کالج چرچ کی ملکیت ہی رہے گا، گورنر خیبرپختونخوا

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2019

ای میل

گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ مسیحی برادری کالج کی زمین کی مالک ہے جسے کسی اور کے نام نہیں کیا جائے گا — فائل فوٹو/اے پی پی
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ مسیحی برادری کالج کی زمین کی مالک ہے جسے کسی اور کے نام نہیں کیا جائے گا — فائل فوٹو/اے پی پی

خیبرپختونخوا کے گورنر شاہ فرمان کا کہنا ہے کہ پشاور کا ایڈورڈ کالج چرچ کی ملکیت رہے گا اور اس کے خلاف کوئی بھی پروپیگنڈا اس ملک کے خلاف سازش ہے، جس میں کہا جارہا تھا کہ اسے قومیا لیا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے اس معاملے پر بےبنیاد سوشل میڈیا مہم چلائی جارہی ہے جس کا نشانہ ایڈورڈ کالج ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ کالج کے پرنسپل کے اعتراضات پر بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بلانے کے فیصلے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر پشاور کے ایڈورڈ کالج کے معاملے کو مذہبی رنگ دینے کی مہم

شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان ہی اعتراضات پر احتجاجی طلبا اور اساتذہ سے ملاقات سے بھی انکار کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مسیحی برادری کے رکن قومی اسمبلی سے مداخلت کرنے کا جبکہ پرنسپل نیئر فردوس سے فیکلٹی میں معاملہ حل کرانے کا بھی کہا ہے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے جب معاملہ اٹھایا تو پرنسپل نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں انہیں بھی فریق ٹھہرایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے عدالت کو اپنے وکیل کے ذریعے تمام دستاویزات دے دیے تھے اور عدالت نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے، پرنسپل اپنی نظر ثانی درخواست بھی ہار چکے ہیں'۔

گورنر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پیر کو بورڈ آف گورنرز کا اجلاس طلب کیا تھا تاکہ صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پرنسپل نے پہلے اپنی بیٹی، بیٹے اور داماد کو تعینات کیا اور پھر انہیں پڑھنے کی چھٹیاں دے دی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اب وہ برطانیہ میں اپنے مفاد کے لیے متعدد فورمز پر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، وہ حقائق کو توڑ مروڑ کے نفرت کی فضا کو ہوا دے رہے'۔

یہ بھی پڑھیں: قبائلی علاقوں میں 10 برس سے 600 تعلیمی ادارے غیر فعال

شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ 'جہاں پاکستان ایف اے ٹی ایف کا کیس لڑ رہا ہے وہیں اس کے خلاف ایک اور مہم کا آغاز کردیا گیا ہے'۔

عدالت عالیہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ کئی طالب علم تعلیم کا معیار کم ہونے کی وجہ سے کالج چھوڑ کر جاچکے ہیں جبکہ کبھی یہ کالج صوبے کا سب سے بہترین کالج تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایڈورڈ کالج نے تعلیم کے شعبے میں گزشتہ ایک صدی کے دوران بہترین خدمات سرانجام دی ہیں اور ہم اس کی بقا کو بحال کرنے کے لیے کوششیں کریں گے'۔

گورنر کا کہنا تھا 'سوشل میڈیا پر ایک گمراہ کن پروپیگنڈا چلایا گیا تاکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام خراب کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسیحی برادری کالج کی زمین کی مالک ہے جسے کسی اور کے نام نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کالج 2 ہفتوں تک بند رہا تھا جہاں طالب علم روزانہ کالج کی عمارت کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پرنسپل کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔