ایشیا پیسیفک کانفرنس:قاسم سوری کی تقریر پر بی جے پی رکن کی ہنگامہ آرائی، ہال سے باہر نکال دیا گیا

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2019

ای میل

ویڈیو میں بی جے پی رہنما وجے جولی کو باہر نکالتے دیکھا جاسکتا ہے — فوٹو: اسکرین شاٹ
ویڈیو میں بی جے پی رہنما وجے جولی کو باہر نکالتے دیکھا جاسکتا ہے — فوٹو: اسکرین شاٹ

ایشیا پیسفک کانفرنس 2019 کے دوران پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی تقریر کو روکنے کی کوشش پر بھارتی سیاست دان وجے جولی کو سیکیورٹی اہلکاروں نے باہر نکال دیا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: محاصرے میں سسکتی زندگی کے 100روز

کمبوڈیا میں ہونے والے کانفرنس میں قاسم سوری کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر گفتگو کر رہے تھے کہ بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما وجے جولی نے ہنگامہ آرائی شروع کردی اور وہ اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ہال کے سامنے آکر کہنے لگے کہ 'میں احتجاج کرتا ہوں'۔

ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کانفرنس میں سامنے کی نشستوں پر بیٹھے شرکا کی طرف انگلی کرتے ہوئے چیخ رہے تھے کہ اتنے میں سیکیورٹی گارڈز آئے اور انہیں ہال سے باہر لے گئے۔

تاہم اس تمام صورتحال کے دوران قاسم سوری نے اپنی تقریر جاری رکھی اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر بات کی۔

ڈپٹی اسپیکر نے اپنی تقریر میں کہا کہ 'میں آپ کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب لے جانا چاہتا ہوں جہاں ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے اور ہزاروں کشمیری لاپتہ ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ '11 ہزار سے زائد کشمیری خواتین کا ریپ کیا جاچکا ہے اور بھارتی جبر کا نشانہ بننے والے عوام کی 8 ہزار بغیر نشان کی قبریں ملی ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ڈاکٹر نے مقبوضہ کشمیر کی کربناک صورتحال کا احوال سنا دیا

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 106 روز سے کرفیو نافذ ہے اور مواصلاتی بندش جاری ہے۔

قاسم سوری کا کہنا تھا کہ 'اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ گنز کا استعمال، ماورائے عدالت قتل اور تشدد کی تصدیق کی ہے'۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں رواں سال اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم کشیدگی میں 5 اگست کو مزید اضافہ ہوا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لے لی تھی۔