حکومت، اتصالات سے پی ٹی سی ایل کا تنازع حل کرنے کیلئے کوشاں

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2019

ای میل

حکومت کے پاس بھی پی ٹی سی ایل کے 62 فیصد حصص ہیں—فائل فوٹو: خلیج ٹائمز
حکومت کے پاس بھی پی ٹی سی ایل کے 62 فیصد حصص ہیں—فائل فوٹو: خلیج ٹائمز

اسلام آباد: پاکستان نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی اتصالات کو ایک دہائی پرانے تنازع حل کرنے کے لیے پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے 80 کروڑ ڈالر کے بقایاجات سے تقریباً 6 کروڑ ڈالر کی کٹوتی کرلے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پی ٹی سی ایل نجکاری سے متعلق بین الوزارتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے نجکاری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارتوں کے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اتصالات کی جانب سے متوقع پیش کش کی تیاری رکھیں تاکہ اگلے ایک دو ہفتوں میں تجاویز کو حتمی شکل دی جاسکے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی سی ایل کی نجکاری معاہدے میں ’سنگین گھپلے‘ کا انکشاف

واضح رہے کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پی ٹی سی ایل کے بیشتر حصص کی خرید و فروخت کے معاملے کی نگرانی کی تھی لیکن حتمی معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے ہی اس وقت کی حکومت چھوڑ دی تھی۔

اتصالات نے پی ٹی سی ایل کی فروخت آمدنی میں 80 کروڑ ڈالر روک لیے تھے جسے 13 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اگرچہ مذکورہ کمپنی 26 فیصد شیئر حاصل کرچکی تھی۔

یہی نہیں بلکہ اتصالات نے جون 2005 میں 2 ارب 60 کروڑ ڈالر سے اس وقت کی کمیونکیشن اتھارٹی کی اجارہ داری بھی حاصل کرلی تھی۔

ادھر نجکاری کمیشن کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ حکومت اور اتصالات کے مابین تنازع 33 جائیدادوں پر آگیا تھا، جنہیں پی ٹی سی ایل کے نام پر منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان جائیدادوں کی تقریباً 9 ارب روپے (6 کروڑ ڈالر) کی قیمت اتصالات کو ارسال کردی تھی، جس کے بعد قابل اعتبار ویلیویٹرز اور چارٹرڈ اکاؤنٹس کے ذریعہ اس قیمت کی تصدیق کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی سی ایل نجکاری کے خلاف تحریک التوا لانے پر غور

عہدیدار نے مزید بتایا کہ اتصالات نے اگلے ہفتے تک جائیدادوں کی قیمت پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ دونوں فریق اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے خواہاں ہیں۔

علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ اتصالات کو کم سے کم غیر متنازع ادائیگیوں کو صاف کرنے اور اس کا ایک حصہ واپس رکھنے کی پیش کش کی گئی تھی لیکن متحدہ عرب امارات میں قائم اس کمپنی نے اتفاق نہیں کیا۔

خیال رہے کہ دونوں فریقین کے مابین اثاثوں کے تنازع کا حل اُن کی قیمت پر اتفاق رائے سے ممکن ہے۔

اس حوالے سے عہدیداروں کے مطابق ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ 12 سے 13 برس سے اتصالات اس معاملے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کررہی ہے، ساتھ ہی انہوں نئی ہدایت کی کہ مذکورہ معاملے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ لائف انشورنس کو نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی سی ایل کا اتصالات کے ساتھ تکنیکی خدمات کا معاہدہ (ٹی ایس اے) 2011 میں ختم ہوگیا تھا، دوران اجلاس یہ بھی بتایا گیا کہ اتصالات 70 ارب روپے کما چکا ہے۔

علاوہ ازیں اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ مشیر خزانہ نے اتصالات سے پی ٹی سی ایل نجکاری سے متعلق تمام امور جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کی اور اسٹیک ہولڈرز سے کہا کہ وہ آئندہ دو ہفتوں میں اس موضوع پر تجاویز کو حتمی شکل دیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ٹی سی ایل کے اثاثہ جات کے محکمے نے اپنی املاک پر غلط اعداد و شمار دیے کیونکہ پی ٹی سی ایل کی 3 ہزار 248 جائیدادیں تھیں لیکن 2006 میں نجکاری کے معاہدے میں 3 ہزار 384 کا ذکر کیا گیا۔

مزیدپڑھیں: خسارے کے شکار ادارے 5 ماہ میں ایک سو 15 ارب روپے قرض لے چکے

واضح رہے کہ حکومت کے پاس بھی پی ٹی سی ایل کے 62 فیصد حصص ہیں اور حکومت نے تمام 3 ہزار 248 جائیدادوں کی فہرست اتصالات کو فراہم کی ہے، جس کی وجہ سے باقی 33 جائیدادوں کو پی ٹی سی ایل میں منتقل نہیں کیا جاسکا تھا۔

مزید برآں اتصالات نے دو اقساط کی مد میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی براہ راست ادائیگی کی تھی لیکن پھر تمام جائیدادوں کی منتقلی نہ کرنے کی بنیاد پر 80 کروڑ ڈالر کی بقایا رقم کی ادائیگی روک دی تھی۔